اُردو میں PDF ورژن

   مندجات

 

سپرنٹنڈنٹ کا پیغام

عزیز والدین/سرپرست:

تعلیمی سال 21-2020 میں آپ کا خیر مقدم میں، ایک ممتاز سکول ڈویژن سکولز کے سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے، اپنے 16ویں سال کا آغاز بڑے فخر سے کرتا ہوں۔ ہمارا سرگرم سکول بورڈ، ممتاز اساتذہ، معاون عملے، اور ٹیم کی قیادت کی بدولت ہم طلباء کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے قابل ہیں، طلباء کی یہ تعداد 100 سکولوں اور مراکز میں اب 91,000 سے بڑھ چکی ہے۔

ہماری سکول ڈویژن میں طلباء اور بالغان کی کامیابی کی طرف رہنمائی کے لیے "ضابطہ اخلاق" میں اہم معلومات شامل ہیں۔ ﻭﺍﻟﺩﻳﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﺭﭘﺭﺳﺗﻭں کے لیے یہ بہت ﺍﮨﻡ ﮨﮯ کہ ﻭﻩ ﺩی ﮔﺋﯽ ﭘﺎﻟﻳﺳﻳﻭں ﮐﮯ ﺧﻼﺻﮯ ﮐﻭ ﺳﻣﺟﻬﻳں ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻧﮯ ﺑﭼﻭں ﮐﻭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻣﻳﺕ ﭘﺭ ﺗﺎﮐﻳﺩ کریں۔ ﺁپ ﮐﮯ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﺳﮯ، ﮨﻡ ﺗﻣﺎﻡ ﺳﮑﻭﻟﻭں ﻣﻳں ﻣﺣﻔﻭﻅ، حوصلہ ا‌فزا ﺍﻭﺭ ﻣﺛﺑﺕ ﺗﻌﻠﻳﻣﯽ ﻣﺎﺣﻭﻝ ﮐﻭ ﻳﻘﻳﻧﯽ ﺑﻧﺎ ﺳﮑﺗﮯ ﮨﻳں۔

میں اس سال کے ضابطۂ اخلاق میں طلباء کو لباس کے قواعد و ضوابط سے متعلق مزید گنجائش کی اجازت دینے کو شامل کرنا پسند کروں گا۔ میں بہت سے سٹیک ہولڈر بشمول طلباء کی قدر کرتا ہوں جنہوں نے لباس کے قواعد و ضوابط اور دیگر اہم معاملات کے بارے میں سکول ڈویژن کو آرا فراہم کرنے میں مدد کی۔ آپ کی رائے کی قدر کی جاتی ہے اور بہت اہم ہے۔

ضابطۂ اخلاق www.pwcs.edu پر دستیاب ہے (درخواست پر شائع شدہ نقول دستیاب ہیں)۔ سکول کے پہلے ہفتے میں گھر بھیجے گئے ہنگامی صورتحال میں رابطے کے کارڈ پر ہر طالبعلم/طالبہ کے والد یا والدہ یا سرپرست کو لازمی دستخط کرنے ہیں جو اس بات کی رسید ہے کہ انہیں کے مواد سے آگاہی حاصل ہے جو کہ ورجینیا کوڈ § 279.3-22.1 کے تحت قانونی شرط ہے۔

باہم مل کر ہم ایسا ماحول پیدا کریں گے جہاں ہر ایک کی عزت کی جائے اور دوسروں کی مدد کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ پرنس ولیئم کاؤنٹی پبلک سکولز کے تمام عملے کی طرف سے، میں آپ اور آپ کے بچے کے لیے دعا گو ہوں کہ یہ تعلیمی سال آپ کے لیے پر لطف اور فائدہ مند ہو۔

مخلص،

Steven L. Walts
سپرنٹنڈنٹ برائے سکولز

 

پیش لفظ

ﺭﻳﺎﺳﺕ ﻭﺭﺟﻳﻧﻳﺎ ﮐﺎ ﺁﺋﻳﻥ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺳﮑﻭﻝ ﺑﻭﺭڈ ﮐﻭ، سکول ﺑﻭﺭڈ ﮐﯽ ﻋﻣﻠﺩﺍﺭی ﻣﻳں ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ پبلک ﺳﮑﻭﻟﻭں ﮐﮯ ﺍﻧﺗﻅﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﮕﺭﺍﻧﯽ ﮐﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺗﻳﺎﺭ ﺩﻳﺗﺎ ہے۔ ﺍﺱ ﺍﺧﺗﻳﺎﺭ ﻣﻳں طلباء ﮐﻭ ﻧﻅﻡ ﻭ ﺿﺑﻁ ﮐﺎ ﭘﺎﺑﻧﺩ ﮐﺭﻧﮯ ﺍﻭﺭان کی ﻧﮕﺭﺍﻧﯽ ﮐﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺗﻳﺎﺭ ﺷﺎﻣﻝ ﮨﮯ۔

پرنس ولیئم کاؤنٹی سکول بورڈ صحت، سلامتی، سکول کے ملازمین اور طلباء کے شخصی حقوق اور سکول املاک کے تحفظ کیلئے حفاظتی اقدامات کو بروئے کار لا کر اپنے تمام طلباء کے لیے انکی قابلیتوں، دلچسپیوں، اقدار، اور اہداف کو سامنے رکھ کر یکساں مواقعوں کی حامل تعلیم کے حقوق کو محفوظ کرنا چاہتا ہے۔

تاہم، نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں سکول کمیونٹی کے تمام ممبران – طلباء، اساتذہ ، منتظمین اور والد یا والدہ (والدین) کا اشتراک ضروری ہے- یہ سب افراد سکول کے قواعد و ضوابط اور تعلیمی عمل کے وقار کے ذمہ دار ہیں۔

بچہ/بچی کو سکول کے ماحول میں ذمہ داری اٹھانے کی تربیت دینا والد یا والدہ کا فریضہ ہے— یعنی ایسا طرز عمل سیکھنے اور اس کا مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری جس سے دوسروں کے تحفظ اور حقوق میں مداخلت نہ ہو۔ سکول ہر طالبعلم/طالبہ سے مناسب اور اپنے طرز عمل کو از خود درست رکھنے والے رویے کی توقع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ چونکہ اپنے طرز عمل کو از خود درست رکھنے کا عمل باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا ہے، لہذا طلباء کو اپنی انفرادی لیاقتوں اور صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کسی حد تک انتخاب اور عمل کرنے کی آزادی دینا ضروری ہے۔

ورجینیا کوڈ § 78-22.1 کے مطابق: "سکول بورڈ ایسے قوانین اور ضوابط اپنا سکتا ہے بشمول طلباء کے مناسب نظم و ضبط کے مگر اس تک محدود نہیں، بشمول ان کے سکول جانے اور واپس آنے سے متعلق"۔ طالبعلم/طالبہ کے طرز عمل سے متعلق سکول بورڈ کے قواعد کا خلاصہ "ضابطہ اخلاق" میں پیش کیا گیا ہے اور پرنس ولیئم کاؤنٹی پبلک سکولز کی ( PWCS) پالیسی اور ضوابط میں بھی موجود ہے۔

جب بھی طلباء درج ذیل میں ملوث ہوں گے، "ضابطہ اخلاق" کی شقوں کا اطلاق ہو گا، جیسے:

  •     معمول کے سکول کی حاضری کے دوران اور جب بھی سکول املاک پر موجود ہیں؛
  •     سکول بورڈ کی ملکیت کی املاک پر ہونے والی سکول کی سرگرمیوں کے وقت، بشمول سکول جانے کی عمر کے بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز (SACC) اور نیکسٹ جنریشن پروگرامز؛
  •     سکول بسوں اور بس سٹاپ پر;
  •     سکول بسوں اور بس سٹاپ پر؛
  •     سکول کے احاطہ سے باہر سکول کی اسپانسر کردہ سرگرمیوں سے متعلق معاملات میں، جیسے فیلڈ ٹرپ، کھیلوں کی تقریبات اور کلب کی سرگرمیاں؛ اور
  •     جب سکول گراؤنڈ اور سکول کی املاک سے باہر کسی طالبعلم/طالبہ کے طرزعمل سے سکول ڈویژن کے فلاح عامہ کے کاموں پہ گہرا اثر پڑے؛ تعلیمی نظام کی سالمیت پر اثر پڑے؛ طلبا، عملہ یا سکول کی املاک کی صحت، سلامتی اور خیر و عافیت خطرے میں پڑ جائے؛ اس وقت واقع ہو جب طالبعلم/طالبہ سکول کے غیر رسمی سرپرستی (loco parentis) کے اندر ہو؛ عملے یا طلبا کے حقوق پر حملہ ہو؛ یا دیگر طلباء کے تعلیمی مواقعوں پر منفی اثرات ہوں۔

سپرنٹنڈنٹ نیک مقصد کی خاطر "ضابطۂ اخلاق" کی حالیہ شکل میں بیان کردہ طریقہ کار سے مختلف عمل کی منظوری دے سکتے ہیں، تاوقتیکہ طلباء، والد یا والدہ (والدین)، عمومی پیمانے پر کمیونٹی اور/ یا سکول کے اہلکاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ نیک مقصد سے مراد سکول کے نظام میں طلباء کی صحت، تحفظ، بہبود اور تعلیمی مواقع کا تحفظ ہے.

       *  "والد یا والدہ (والدین)"، کا لفظ جہاں بھی استعمال کیا گیا ہے اس سے مراد حقیقی والد یا والدہ (والدین)، گود لینے والے والد یا والدہ (والدین) یا قانونی سرپرست (سرپرستان)۔

گمنام رپورٹنگ ٹپ لائن

703-791-2821

طلباء، عملہ اور والدین سکول کے لیے نظم و ضبط اور محفوظ ماحول کی تخلیق کی ذمہ داری میں اشتراک عمل کرتے ہیں۔ منشیات، اسلحہ یا ایسے دوسرے عوامل جو سکول کے ماحول کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، ان کے بارے میں معلومات کی اطلاع دینا ضروری ہے۔ “ضابطۂ اخلاق” کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے پر انتقامی کاروائی کی کسی بھی کوشش پر اصلاحی اقدام کیا جائے گا جس میں اخراج تک شامل ہو سکتا ہے۔ اگر طلباء کو منشیات، ہتھیاروں، تشدد، یا دیگر طرز عمل جو دوسروں یا سکول کے ماحول کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں، اگر ان کی سکول حکام کو ایسی معلومات رپورٹ نہیں کی جائیں گی تو ان کے خلاف تادیبی کاروائی ہو سکتی ہے۔

ایسی معلومات کی اطلاع دینے کے لیے ذیل میں چند تجاویز ہیں:

  •     سکول پرنسپل یا دوسرے منتظم سے رابطہ کریں۔
  •     PWCS کی شناخت خفیہ رکھنے والی ٹپ لائن کو 2821-791-703 پر کال کریں۔

 نوٹ: اس نمبر پر پیغام ریکارڈ ہوتا ہے لہذا اس نمبر کو ہنگامی حالات میں یا ایسی صورت میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جب فوری جواب مطلوب ہو۔

  •     ہنگامی صورتحال میں پولیس سے رابطہ کریں۔
  •     اگر کسی طالبعلم/طالبہ کو اپنے پاس کوئی ایسی چیز ہونے کا انکشاف ہوتا ہے جس کی سکول میں اجازت نہیں ہے تو اس طالبعلم/طالبہ کو فوری طور پر کسی منتظم یا عملہ کے دوسرے ممبر کو اطلاع دینی چاہیے۔
  •     اطلاع ملنے پر کاروائی شروع کرنے کے لیے اس بات کو مد نظر رکھا جائے گا کہ طالبعلم/طالبہ رضاکارانہ طور پر یہ معاملہ عملہ کے پاس لے کرائے۔
  •     اگر طلباء کو یقین ہو کہ وہ تفریق، ہراسانی یا دیگر ایسے اعمال کا شکار ہوئے ہیں جس سے “ضابطۂ اخلاق” کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو انہیں فوری طور پر کسی منتظم، استاد یا مشیر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

ذمہ داریاں

پرنس ولیئم کاؤنٹی سکول بورڈ

"ضابطۂ اخلاق" PWCS کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ کے توسط سے کام کرتے ہوئے سکول بورڈ، سکول کے تمام عملے کو ذمہ دار بناتا ہے کہ وہ طالبعلم/طالبہ کے طرز عمل کی نگرانی کریں جب طلباء قانونی طور پر سکول ڈویژن کی نگرانی میں آ جاتے ہیں۔ سکول بورڈ تمام طلباء کو موزوں طرز عمل کے لیے ذمہ دار ٹھہراتا ہے جیسا کہ سکول بورڈ کی پالیسیوں اور ضوابط میں واضح کیا گیا ہے اور جس کا خلاصہ PWCS کے "ضابطۂ اخلاق" میں پیش کیا گیا ہے۔ طالبعلم/طالبہ کے رویے اور طالبعلم/طالبہ کے نظم و ضبط پر نافذ المعل پالیسیاں اور ضوابط PWCS کی پالیسیوں اور ضوابط میں موجود ہیں جو www.pwcs.edu پر دستیاب ہیں۔

PWCS کے تمام ملازمین اعلیٰ ترین اخلاقی معیاروں کو قائم رکھتے ہیں اور وہ اپنے افعال کے لیے جواب دہ ہیں۔ لہذا تمام ملازمین لازمی طور پر سکول بورڈ کی طرف سے تشکیل کردہ پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کریں۔

طلباء کے موزوں طرز عمل کے فروغ کے لیے سکول بورڈ تمام والدین کو "ضابطۂ اخلاق" اور اس میں جن پالیسیوں یا ضوابط کا حوالہ دیا گیا ہے انہیں پڑھنے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

 

تعلیمی ٹیم

یوں تو نظم و ضبط کی ذمہ داری بالآخر ہر فرد کی اپنی اپنی ہوتی ہے، مگر نظم و ضبط کے ایک مؤثر پروگرام کے نفاذ کے لیے باہمی ٹیم کی کوشش درکار ہوتی ہے۔ طرز عمل کے معیارات کی وضاحت کرنے، طلباء کی انفرادی ضروریات کی مؤثر طور پر تشخیص کرنے اور کسی طالبعلم کے غلط برتاؤ میں معاون ہو سکنے والے کسی اہم عوامل کی نشاندہی کرنے کی کوشش کے تحت حفاظتی اقدامات کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ سکول پرنسپل جو تعلیمی رہنما ہیں وہ اپنے سکول میں رویوں کے توقعات کی تیاری کے ذمہ ہیں جنہیں سکول بورڈ کی پالیسیوں اور ضوابط اور "ضابطۂ اخلاق" کے مطابق ہونا چاہیے۔ منتظمین، اساتذہ اور امدادی عملہ سبھی سکول ڈویژن میں ہر طالبعلم/طالبہ کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

تعلیمی ﮢﻳﻡ ﺩﺭﺝ ﺫﻳﻝ ﮐﯽ ﺫمہ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ:

  •     ایک محفوظ اور مثبت سکول کا ماحول فراہم کرنا؛
  •     ﺗﻌﻠﻳﻡ ﮐﮯ ﺣﺻﻭﻝ کے لیے ﻣﻭﺍﻓﻕ ﺗﻌﻠﻳﻣﯽ ﻣﺎﺣﻭﻝ ﮐﯽ ﻓﺭﺍﮨﻣﯽ؛
  •     ﺫﺍﺗﯽ ﺿﺑﻁ ﻭ ﻧﻔﺱ ﮐﯽ ﺣﻭﺻلہ ﺍﻓﺯﺍﺋﯽ ﮐﺭﻧﺎ؛
  •     ﺑﺎﮨﻣﯽ ﺍﺣﺗﺭﺍﻡ ﭘﺭ ﻣﺑﻧﯽ ﻣﺎﺣﻭﻝ ﮐﯽ ﻓﺭﺍﮨﻣﯽ؛
  •     ﮨﺭ طالبعلم/طالبہ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺭﻭﺭﻳﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻁﺎﺑﻕ ﺍﻳﮏ ﻓﺭﺩ ﮐﯽ ﺣﻳﺛﻳﺕ ﺳﮯ ﺳﻠﻭک ﮐﺭﻧﺎ؛
  •     طلباء ﮐﯽ ﮐﺎﺭﮐﺎﺭﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﻭصلہ ﺍﻓﺯﺍﺋﯽ، ﻧﮕﺭﺍﻧﯽ، ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﭻ ﮐﺭﻧﺎ؛
  •     ﻭﺍﻟﺩﻳﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬ ﺑﺭﺍﻩ ﺭﺍﺳﺕ رابطہ ﻗﺎﺋﻡ ﮐﺭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻗﺎﺋﻡ ﺭﮐﻬﻧﺎ؛
  •     ﮨﺭ ﺗﻌﻠﻳﻣﯽ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺷﺭﻭﻉ ﻣﻳں طلباء ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬ "ضابطہ اخلاق" ﭘﺭ ﮔﻔﺗﮕﻭ ﮐﺭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﻳﻣﯽ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻭﻗﺗﺎ ﻓﻭﻗﺗﺎ ﺟﺎﺋﺯﻩ ﻓﺭﺍﮨﻡ ﮐﺭﻧﺎ؛
  •     سکول کے اصول و ضوابط تشکیل دینا اور انہیں نافذ کرنا جو سکول کے ماحول کے دوران، سکول بورڈ کی پالیسیوں اور ضوابط اور"ضابطۂ اخلاق’’ کے  مطابق ہیں؛
  •     پورے تعلیمی سال کے دوران نیا داخلہ لینے والے تمام طلباء کو "ضابطہ اخلاق" اور تدریس دونوں میں رسائی فراہم کرنا؛
  •     جب بھی ممکن ہو، طالبعلم/طالبہ اور مجموعی طور پر سکول کے ماحول کی ضروریات کی بنیاد پر ایک لائحہ عمل تیار کرنا؛اور
  •     طلباء کے خلاف تادیبی کاروائی کا ریکارڈ رکھنے کے لیے طالبعلم/طالبہ کا انفرادی تعلیمی ریکارڈ قائم کرنا۔ اگر طالبعلم/طالبہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں تو ایسے ریکارڈ میں پولیس کی گرفتاری یا عدالتی کاروائی کی معلومات درج ہوں گی۔

طالبعلم/طالبہ سے متعلق جب بھی نابالغوں کی عدالت میں مقدمات کا اندراج ہو، اسے "گرفتاری" سمجھا جاتا ہے چاہے پولیس نے طالبعلم/طالبہ کو جسمانی طور پر تحویل میں نہ لیا ہو۔ (جیسا کہ ورجینیا کے قانون کے تحت لازمی ہے)۔

جب بھی طالبعلم/طالبہ امتیازی سلوک، ہراسانی یا دیگر ایسے اعمال کی اطلاع دیں جس سے ‘‘ضابطۂ اخلاق’’ کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو سکول کے منتظمین) پرنسپل اور اسسٹنٹ پرنسپلز (موزوں اقدام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اساتذہ، کونسلرز اور دیگر تعلیمی امدادی عملہ منتظمین سے درکار اعانت کے حصول میں طلباء کی مدد کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ طلباء کی شکایت پر عملے کے رد عمل کو ضبط تحریر کیا جائے۔

جیسا کہ پالیسی 747 "دفتر برائے سٹوڈنٹ منیجمنٹ اور آلٹرنیٹیو پروگرام" میں بیان کیا گیا ہے کہ پرنس ولیئم کاؤنٹی سکول بورڈ، دفتر برائے سٹوڈنٹ منیجمنٹ اور آلٹرنیٹیو (OSMAP) کی حمایت کرتا ہے تاکہ ایک محفوظ سکول کے ماحول کو فراہم کرنے میں سکول ڈویژن کی کوششوں سے تعاون کیا جائے جو تدریس اور سیکھنے کے لئے موزوں ہے۔ OSMAP کے مقاصد درج ذیل ہیں:

طالبعلم/طالبہ کے نظم و ضبط کے شدید خلاف ورزیوں کو حل کرنا؛

  •     مختلف تعلیمی مواقع فراہم کرنا تاکہ K تا 12 گریڈ کے طلباء اور بالغ طلباء کی مختلف ضروریات کو پورا کیا جا سکے؛
  •     محفوظ تعلیمی ماحول کو فروغ دینا جو تدریس اور تعلیم کے لئے سازگار اور تشدد، تنازعات اور غیر ضروری خلل اندازی سے پاک ہو؛
  •     ایک ایسے طریقے کے ذریعے طویل المدت معطلیوں ور اخراج کو کم کونا جو غیر روایتی اور متبادل تعلیمی مواقع کو بڑھا سکے؛
  •     طلباء کے طویل المدت معطلی، اخراج، علیحدگی اور دوبارہ داخلوں اور سکول بورڈ کو کی گئی اپیلوں کی درخواستوں کی تادیبی کاروائیوں کی نگرانی کرنا اور لاگو کرنا؛ اور
  •     ان باقاعدہ تعلیمی طلباء کے لئے مناسب تعلیمی خدمات، پروگراموں اور داخلوں کا تعین کرنا جو OSMAP کے نظم و ضبط کے عمل کے تابع ہیں۔

والد یا والدہ (والدین)

طلباء، والدین اور سٹاف کو درج ذیل پالیسیوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے، 681، "غیر روایتی تعلیمی پروگرام"؛ 731، "طالبعلم/طالبہ کے معاملات پر اپیل"، 735، "منضبط مواد"؛ 743، "طالبعلم/طالبہ کا نظم و ضبط"؛ 744، "طلباء کی قلیل المدت معطلی"؛ 745، "طلباء کی طویل المدت معطلی، یا اخراج، دوبارہ داخلہ، اور اخراج/دوبارہ داخلہ"؛ 747، "آفس آف سٹوڈنٹ منیجمنٹ و آلٹرنیٹیو پروگرامز"؛ 775، "ہتھیار اور دیگر ممنوعہ اشیا"؛ اور ضوابط، 1-681، "غیر روایتی تعلیمی پروگرام"؛ 1-731، "طالبعلم/طالبہ کے معاملات پر اپیل"، 1-735، "منضبط مواد"؛ 1-743، "طالبعلم/طالبہ کا نظم و ضبط"؛ 1-744، "طلباء کی قلیل المدت معطلی"؛ 1-745، "طلباء کی طویل المدت معطلی، یا اخراج؛ 4-745، "طالبعلم/طالبہ کے اخراج کی اپیل کی سماعت کے لیے سکول بورڈ نظم و ضبط کی کمیٹی کے طریقہ کار"؛ 5-745، "دوبارہ داخلے اور اخراج/دوبارہ داخلے"؛ 6-745، "سکول بورڈ کو طویل المدت معطلی اور اخراج کی اپیلیں"؛ 1-747، "آفس آف سٹوڈنٹ منیجمنٹ و آلٹرنیٹیو پروگرامز (OSMAP) ؛" 1-775، "ہتھیار اور دیگر ممنوعہ اشیا"؛ سکول بورڈ اور سکول کا عملہ طلباء کی رازداری کا احترام کرتے ہیں اور قانون کے مطابق طالبعلم/طالبہ کی رازداری کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق پالیسیاں اور طریقہ کار وضع کئے ہیں۔ رازداری کے یہ حقوق تادیبی کاروائی کے معاملات تک توسیعی ہیں۔ سکول بورڈ کی تمام پالیسیاں اور انتظامی ضوابط والدین اور عوام کے لیے دستیاب ہیں، اس کے علاوہ حالیہ/سرکاری نقل سکول ڈویژن کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کی کاغذی نقول اسکول بورڈ کے کلرک آفس میں رکھی جاتی ہیں۔

یہ والد یا والدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ:

  •     ان باقاعدہ تعلیمی طلباء کے لئے مناسب تعلیمی خدمات، پروگراموں اور داخلوں کا تعین کرنا جوOSMAP کے نظم و ضبط کے عمل کے تابع ہیں۔
  •     ہنگامی صورت حال میں رابطہ کے کارڈ کی پشت پر دئیے ہوئے "ضابطہ اخلاق" کے معاہدے پر دستخط کریں؛
  •     طالبعلم/طالبہ کو تعلیم حاصل کرنے کی ذمہ داری اٹھانا سکھائیں اور ایسا طرز عمل سکھائیں جس سے دوسروں کے حقوق میں مداخلت نہ ہوتی ہو؛
  •     طالبعلم/طالبہ کی سکول میں روزانہ حاضری کو یقینی بنائیں اور طالبعلم/طالبہ کے غیر حاضر ہونے، دیر سے آنے یا قبل از وقت سکول چھوڑ کر جانے کی صورت میں سکول کو مطلع کریں؛
  •     طالبعلم/طالبہ کے سکول میں وقت پر آنے کو یقینی بنائیں؛
  •     حوصلہ افزائی اور نظم و ضبط فراہم کریں جس کا مقصد ذمہ دار رویے اور سکول کے اندر طالبعلم/طالبہ کو متحرک کرنا ہے؛
  •     "ضابطۂ اخلاق" کو پڑھیں اور سمجھیں۔
  •     اس بات کی تسلی کریں کہ طالبعلم/طالبہ مناسب لباس پہن کر سکول آئیں جو لباس کے قواعد و ضوابط میں متعین کیے گئے ہیں جنہیں مقامی سکول میں طلباء، والد یا والد (والدین)، اور سکول سٹاف نے مل کر بنایا ہے۔
  •     سکول کے تعلیمی پروگرام میں م‎مؤثر انداز میں شرکت کرنے کے لیے ضروری کتابیں، مواد، سازو سامان، آلات، یونیفارم، اور اشیا فراہم کریں؛
  •     مڈل اور ہائی سکول میں اگلی جماعت میں ترقی اور گریجویشن کے لیے لازمی شرائط کے بارے میں جانیے جو ہر سال "کورس کیٹلاگ" میں شائع کی جاتی ہیں۔
  •     مقامی فون نمبر سمیت ہنگامی صورت حال میں رابطہ کے کام آنے والی معلومات سکول کو فراہم کریں تاکہ تسلی کی جائے کہ ہنگامی صورتحال میں سکول کا والد یا والدہ سے فوری رابطہ ہو سکے؛
  •     طالبعلم/طالبہ کی سند پیدائش اور/یا امیگریشن کی دستاویزات کی مصدقہ نقول؛ جسمانی معائنہ؛ حفاظتی ٹیکوں کا ریکارڈ؛ اور جہاں قابل اطلاق ہو وہاں سوشل سیکوریٹی نمبر، سکول میں ابتدائی داخلے کے وقت، ورجینیا کے ضابطوں کے تحت فراہم کریں؛ اور
  •     یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ سکول بورڈ کی زیر ملکیت املاک پر سکول سرگرمیوں میں؛ سکول میں آنے اور جانے کے اوقات کے دوران؛ اور بس سٹاپ پر؛ سکول بسوں میں؛ سکول کی عمارت سے باہر، سکول کے زیر اہتمام سرگرمیوں میں، جیسے فیلڈ ٹرپ، کھیل کے ایونٹس اور کلب کی سرگرمیوں میں منشیات اور اسلحے سے متعلق خلاف ورزیوں میں ملوث طلباء کو اخراج کا سامنا کرنا ہو گا۔

طالبعلم/طالبہ (طلباء) توقعات کا ضابطہ

طالبعلم/طالبہ کے تیار کردہ ضابطہ توقعات سے ان رویوں، رجحانات اور اقدامات کی تشکیل ہوتی ہے جو سکول میں ذمہ اور کامیابی کو فروغ دیتے ہیں۔

ایلیمنٹری سکول کے لیے ضابطۂ توقعات

گریڈ‌ز کنڈرگارٹن تا دو:

دوسروں کا خیال رکھنے والے اور پرنس ولیئم کاؤنٹی سکولز کے ذمہ دار طالبعلم/طالبہ کی حیثیت سے میں عہد کرتا/ کرتی ہوں کہ:

  •     اگر مجھے مدد کی ضرورت ہوئی تو مدد طلب کروں گا/گی؛
  •     بڑوں اور دوستوں کی مدد کرنے کے مواقع تلاش کروں گا/گی؛
  •     بری صورت حال سے الگ رہوں گا/گی اور قواعد کی تعمیل کروں گا/گی؛
  •     املاک کی حفاظت کرنے، دیانتدار رہنے اور اس پر عمل کرنے کی مشق کروں گا/گی؛
  •     اپنی بہترین کوشش کروں گا/گی کہ سکول ورک اور ہوم ورک مکمل کروں؛
  •     ہمیشہ سچ بولوں گا/گی اور دیانتدار رہوں گا/گی؛
  •     ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بہترین فیصلے کروں گا/گی اور PWCS کے انٹرنیٹ کی قابل قبول استعمال اور تحفظ کی ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل کروں گا/گی۔
  •     اچھا دوست بنوں گا/گی اور دوسروں سے غنڈہ گردی نہیں کروں گا/گی؛ اور
  •     دوسروں سے مرغوب نہیں ہوں گا/گی اور جو بھی ہوں اپنے اوپر فخر کروں گا/گی۔

گریڈز تین تا پانچ

دوسروں کا خیال رکھنے والے اور پرنس ولیئم کاؤنٹی سکولز کے ذمہ دار طالبعلم/طالبہ کی حیثیت سے میں عہد کرتا/ کرتی ہوں کہ:

  •     اگر مجھے مدد کی ضرورت ہوئی تو مدد طلب کروں گا/گی؛
  •     بڑوں سے مثبت ابلاغ کروں گا/ گی؛
  •     بڑوں اور دوستوں کی مدد کرنے کے مواقع تلاش کروں گا/گی؛
  •     سکول/کمیونٹی کی سرگرمیوں میں شامل ہوں گا/گی؛
  •     بری صورت حال سے الگ رہوں گا/گی اور قواعد کی تعمیل کروں گا/گی؛
  •     ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بہترین فیصلے کروں گا/گی اور PWCS کے انٹرنیٹ کی قابل قبول استعمال اور تحفظ کی ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل کروں گا/گی۔
  •     مثبت کردار کا نمونہ بننے کے لیے دوسرے طلباء کی حوصلہ افزائی کروں گا/گی؛
  •     املاک کی حفاظت کرنے، دیانتدار رہنے اور اس پر عمل کرنے کی مشق کروں گا/گی؛
  •     ہوم ورک کے بعد دوستوں اور گھرانے کی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے چستی کا مظاہرہ کروں گا/ گی؛
  •     سکول اور گھر پر کرنے والا سکول کا سارا کام مکمل کروں گا/گی اور اس کے لیے اپنی بہترین کوشش کروں گا/گی؛
  •     بڑوں اور دوسرے طلباء کے ساتھ احترام سے پیش آؤں گا/گی؛
  •     ہمیشہ سچ بولوں گا/گی اور دیانتدار رہوں گا/گی؛
  •     اچھے کردار کا نمونہ بنوں گا/ گی اور اپنے اور دوسروں کے حق کیلئے کھڑا ہوں گا/گی؛
  •     اچھا دوست بنوں گا/گی اور دوسروں سے غنڈہ گردی نہیں کروں گا/گی؛
  •     دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کروں گا/گی؛
  •     دوسروں سے مرعوب نہیں ہوں گا/گی اور جو بھی ہوں اپنے اوپر فخر کروں گا/گی؛ اور
  •     اپنے سے چھوٹی عمر کے بچوں پر اچھا اثر ڈالوں گا/ گی؛

مڈل سکول کے لیے ضابطۂ توقعات

دوسروں کا خیال رکھنے والے اور پرنس ولیئم کاؤنٹی سکولز کے ذمہ دار طالبعلم/طالبہ کی حیثیت سے میں عہد کرتا/ کرتی ہوں کہ:

  •     دوسروں کا احترام اور ان کی حوصلہ افزائی کروں گا/گی؛
  •     کلاس روم میں دوسرے طلباء کے لیے اچھی مثالیں قائم کروں گا/گی؛
  •     والدین، اساتذہ اور سکول کے عملہ کے ساتھ کھل کر تبادلہ خیال کروں گا/گی؛
  •     دوسروں کی مثبت فیصلے کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کروں گا/گی؛
  •     ایک مثالی نمونہ بنوں گا/گی اور دوسرے طلباء کی محفوظ فیصلہ سازی کو فروغ دوں گا/گی؛
  •     ضرورت پڑنے پر خوراک کی فراہمی کی مہم، عطیات جمع کرنا وغیرہ جیسی سرگرمیاں انجام دے کر کمیونٹی کی خدمت کروں گا/گی؛
  •     گھرانے، سکول اور کمیونٹی کی طے کردہ حدود کو تسلیم کروں گا/ گی؛
  •     اعلی کردار کے مثالی نمونوں اور دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کروں گا/گی؛
  •     بہترین کوشش کروں گا اور اپنی توقعات کم نہیں کروں گا/ گی اگرچہ کبھی کبھار میں ناکام ہو جاؤں؛
  •     سکول کی سرگرمیوں اور کھیلوں کی ٹیموں میں حصہ لوں گا/گی؛
  •     پڑھنے کے لیے ایسی جگہ تلاش کروں گا جہاں توجہ منتشر نہ ہو؛
  •     اپنے وقت کا استعمال دانشمندی سے کروں گا/گی؛ اسائنمنٹس مکمل کرتے وقت ڻال مڻول نہيں کروں گا/ گی؛
  •     سکول میں دوسرے طلباء سے اچھا کرنے کے لیے رہنمائی اور حوصلہ افزائی کروں گا/گی؛
  •     اپنے گرد منفی اثر کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک اچھی مثال قائم کروں گا/گی؛
  •     کلاس میں پوری توجہ سے سنوں گا/گی اور دوسرے طلباء کے لیے ایک اچھا ماڈل بنوں گا/گی؛
  •     اپنے افعال کی ذمہ داری قبول کروں گا/گی؛
  •     ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بہترین فیصلے کروں گا/گی اور PWCS کے انٹرنیٹ کی قابل قبول استعمال اور تحفظ کی ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل کروں گا/گی۔
  •     اپنے طرز عمل کو قابو ميں رکهوں گا/گی اور غلط ہونے کا علم ہونے پر انکار کروں گا/گی؛
  •     جنس، نسل، جنسی بنیاد، مذہب، سماجی و معاشی پس منظر یا معذوری سے قطع نظر مساوات میں یقین رکھوں گا/گی؛
  •     ان طلباء کا احترام کروں گا/گی جن کا پس منظر مجھ سے مختلف ہو سکتا ہے؛
  •     درست فیصلہ کرنے کے لیے بہت پہلے سے منصوبہ بندی کروں گا/گی؛
  •     نامناسب حالات سے احتراز کروں گا/گی؛
  •     مختلف طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لوں گا/گی اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دوں گا/گی؛
  •     ایسے مثالی کردار والے بالغ افراد کی تلاش کروں گا/گی جن سے ضرورت کے وقت معاونت مل سکے؛ اور
  •     اپنی ذات پر بھروسہ کروں گا/گی۔

ہائی سکول کے لیے ضابطۂ توقعات

دوسروں کا خیال رکھنے والے اور پرنس ولیئم کاؤنٹی سکولز کے ذمہ دار طالبعلم/طالبہ کی حیثیت سے میں عہد کرتا/ کرتی ہوں کہ:

  •     اپنے والدین کی حوصلہ افزائی کروں گا/گی کہ وہ سکول کی سرگرمیوں اور میری تعلیم میں فعال حصہ لیں؛
  •     اپنی زندگی میں شامل بالغ افراد کے ساتھ کھلا اور صحت مند تبادلہ خیال و بات چیت کا سلسلہ قائم کروں گا/گی؛
  •     دوسروں کا خیال رکھنے والا سکول کا ماحول تخلیق کرنے کا کام کروں گا/گی؛
  •     ایک با عزت رول ماڈل کے طور پر مثبت طریقے سے اپنے سکول اور کمیونٹی کی مدد کروں گا/گی؛ اچھے فیصلے کروں گا/گی اور دی گئی ذمہ داریاں اٹھاؤں گا/گی؛
  •     جو سرگرمیاں مفید ہیں اور سکول کے محفوظ ماحول کی ترویج کرتی ہیں ان کی تائید کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کر کے اپنے سکول اور کمیونٹی کی خدمت کروں گا/گی؛
  •     اپنے آپ کو ان طریقوں پر چلاؤں گا/گی جنہیں بالغان ذمہ دار کی حیثیت سے لیں تاکہ وہ میرے احتساب اور اچھی ساکھ کی وجہ سے میری رائے کی قدر کی جائے گی؛
  •     اساتذہ اور دیگر بالغ افراد سے تعاون کروں گا/گی؛
  •     اپنی کمیونٹی میں نوجوانوں کے لیے واضح اصولوں کی تشکیل کے لیے اپنے گھرانے اور ہمسائیوں سے تعاون کروں گا/گی؛
  •     بالغان کے مثبت اور متاثر کن رویے کا ماڈل بنوں گا/گی؛
  •     اپنے معمولات میں اضافی سرگرمیاں شامل کرنے کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لوں گا/گی؛
  •     کمیونٹی میں اپنی شمولیت کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں میں اپنی دلچسپیاں پیدا کروں گا/گی؛
  •     مختلف نوعیت کی سرگرمیوں میں اپنے وقت کو برابر تقسیم کروں گا/گی (سکول، گھر، اور غیر نصابی سرگرمیاں)؛
  •     اپنی اور اپنے ہم عمروں کی تعلیم آگے بڑھانے کے لیے "ضابطہ اخلاق" میں دئیے گئے قواعد و ضوابط کی پابندی کروں گا/گی؛
  •     ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بہترین فیصلے کروں گا/گی اور PWCS کے انٹرنیٹ کی قابل قبول استعمال اور تحفظ کی ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل کروں گا/گی۔
  •     سکول کے پروگراموں میں فعال طریقے سے شرکت کروں گا/گی اور اس بات کا مظاہرہ کروں گا/ گی کہ مجھے اپنی کمیونٹی کی فلاح کی فکر ہے؛
  •     اپنی اسائنمنٹس اور تعلیمی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے پکے عہد کے ذریعے تعلیم میں بہتری لاؤں گا/گی؛
  •     خود کو مناسب صفات سے آراستہ کر ایک مثبت رجحان فروغ دوں گا جو دوسروں پر اثر ڈال سکے جیسے راست بازی اور ایمانداری؛
  •     جو مثبت اقدار میری ذات کو سنوارنے میں مجھ پر اثرانداز ہوتی ہیں ان کی ستائش کروں گا اور ان اقدار کو اپنے سکولوں اور کمیونٹیز میں برائے کار لاؤں گا/گی؛
  •     میں جو ہوں اور مجھے متاثر کرنے والے مثبت اقدار کی قدر کروں گا/گی اور ہمارے سکولوں اور کمیونٹی کے اندر ان اقدار کو شامل کروں گا/گی؛
  •     نقطہ نظر سے اختلاف اور مختلف پس منظر کے باوجود اپنے تمام ہم عمروں کے ساتھ مساوی سلوک کروں گا/گی؛
  •     ہم عمروں کے منفی دباؤ سے بچنے کے لیے اور مثبت فیصلہ سازی کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کروں گا/گی؛
  •     اپنے تنازعات کو غیر متشددانہ طریقے سے حل کرنے کے لیے اپنی ہم گدازی، ہمدردی، اور دوستی کی مہارتوں کو استعمال کروں گا/گی؛
  •     اپنی زندگی کے مقصد کا شعور حاصل کروں گا/گی؛
  •     اپنی زندگی کے اہداف سے باخبر رہوں گا اور اپنے مستقبل کے بارے میں پُر امید رہوں گا/گی؛ اور
  •     اپنے مستقبل کے لیے مقصد ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ بناؤں گا۔

طلباء، عملہ اور والدین سکول کے لیے نظم و ضبط اور محفوظ ماحول کی تخلیق کی ذمہ داری میں اشتراک عمل کرتے ہیں۔ منشیات، اسلحہ یا ایسے دوسرے عوامل جو سکول کے ماحول کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، ان کے بارے میں معلومات کی اطلاع دینا ضروری ہے۔ “ضابطۂ اخلاق” کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے پر انتقامی کاروائی کی کسی بھی کوشش پر اصلاحی اقدام کیا جائے گا جس میں اخراج تک شامل ہو سکتا ہے۔

اگر طلباء کو منشیات، ہتھیاروں، تشدد، یا دیگر طرز عمل جو دوسروں یا سکول کے ماحول کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں، اگر ان کی سکول حکام کو ایسی معلومات رپورٹ نہیں کی جائیں گی تو ان کے خلاف تادیبی کاروائی ہو سکتی ہے۔

اگر کسی طالبعلم/طالبہ کو اپنے پاس کوئی ایسی چیز ہونے کا انکشاف ہوتا ہے جس کی سکول میں اجازت نہیں ہے تو اس طالبعلم/طالبہ کو فوری طور پر کسی منتظم یا عملہ کے دوسرے ممبر کو اطلاع دینی چاہیے۔ اطلاع ملنے پر کاروائی شروع کرنے کے لیے ذمہ دار سکول کا عملہ اس بات کو مد نظر رکھے گا کہ طالبعلم/طالبہ رضاکارانہ طور پر یہ معاملہ لے کر عملہ کے پاس آیا ہے۔ اگر طلباء کو یقین ہو کہ وہ تفریق، ہراسانی یا دیگر ایسے اعمال کا شکار ہوئے ہیں جس سے "ضابطۂ اخلاق" کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو انہیں فوری طور پر کسی منتظم، استاد، کونسلر یا با اعتماد بالغ سے رابطہ کرنا چاہیے۔

قواعد و ضوابط

غلط طرز عمل کے مؤثر تدارک کا ایک بنیادی عنصر ڈویژن کی سطح بھر کے سکولوں کے طلباء کے لیے ضوابط کی تشکیل اور ان کا بلا تعطل نفاذ ہے۔ کسی مخصوص جرمانے کی عدم موجودگی کی صورت میں پرنسپل کو خلاف ورزی کے لحاظ سے مناسب جرمانہ عاید کرنے کا اختیار ہے، جس کا دائرہ کونسلنگ سے تادیبی کاروائی (طویل المدت معطلی یا اخراج کی سفارش) تک ہو سکتا ہے جس کی سفارش OSMAP معاملے کی شدت پر کرتا ہے۔ مناسب اصلاحی تدبیر کے تعین میں طالبعلم/طالبہ کی عمر اور گریڈ سطح، خلاف ورزی کے گردو پیش کے حالات اور دوسرے متعلقہ عوامل پر غور کیا جائے گا۔ ذیل میں PWCS کے لیے برتاؤ کے مسلمہ معیارات کا ایک خلاصہ پیش کیا گیا ہے:

حملہ اور زدوکوب - جسمانی یا زبانی حملے کی دھمکی اور کسی شخص پر جسمانی طاقت کا استعمال (زدوکوب) واضح طور پر ممنوع ہے۔

سکول ڈویژن ملازم پر حملہ اور/یا زدوکوب کرنا - سکول ڈویژن کے عملے بشمول متبادل ملازمین کو زد و کوب کرنے سختی سے منع ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے مرتکب طلباء کے خلاف انضباطی کاروائی ہو سکتی ہے جس میں اخراج تک شامل ہے۔ اس کے علاوہ، ورجینیا کوڈ کے سیکشن 57-18.2  کے تحت ایسے جرم کے لیے، طلباء کے خلاف مجرمانہ کاروائی ہو سکتی ہے، سکول ڈویژن کے عملے کو زد و کوب کرنے کا جرم ثابت ہونے پر انہیں نظم وضبط کا پابند بنانے کے لیے15 دن تک حراست جس میں کم از کم دو دن کی لازمی حراست کی سزا ہو گی۔ اگر اس جرم کے ارتکاب میں، گن پاؤڈر والا اسلحہ یا دیگر اسلحہ جو سکول املاک پر ممنوع ہیں، استعمال کیا گیا ہے تو ملزم کو کم از کم چھ ماہ کی لازمی حراست کی سزا بھگتنا ہو گی۔

حاضری - ورجینیا قانون کے تحت، جب سکول کھلا تو طلباء سکول میں حاضر ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ ضابطہ 1-724 "حاضریاں اور منظور شدہ غیر حاضری" میں طالبعلم/طالبہ کی حاضری سے متعلق مخصوص معلومات یہاں درج ہیں۔ غیرحاضریوں، غیر منظور شدہ غیر حاضری اور/یا گھر جلدی جانے کے لیے والد یا والدہ اور/یا سکول کے عملہ کی جانب سے تحریری منظوری ضروری ہے۔ سکول سے غیر حاضری کے پانچ دنوں کے اندر اندر، والد یا والدہ غیر حاضری کی منظوری کے لیے متعلقہ سکول سٹاف کو دستاویزات فراہم کریں گے۔ منظور شدہ غیر حاضریوں کے لیے کلاس کا کام، ضابطہ 1-724 کے مطابق ممکن ہے۔ طالبعلم یا والدین اسائنمنٹس حاصل کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دیر سے آنے والے طلباء کو داخل ہونے کے لئے سکول کے طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیئے۔

منظور شدہ غیر حاضری کی اقسام:

  •     طالبعلم/طالبہ کی ذاتی بیماری؛
  •     طالبعلم/طالبہ کا طبی اور دانتوں کا معائنہ اور/یا علاج جب ایسی ملاقاتوں کو سکول اوقات کے علاوہ شیڈول کرنا ممکن نہیں؛
  •     سکول کے اوقات کے دوران انجام پا رہی سکول کی پیش کردہ سرگرمیوں میں طالبعلم/طالبہ کی شرکت؛
  •     پرنسپل کی پیشگی منظوری کے ساتھ، سینیئرز کو کالج میں داخلے کے لیے وہاں کے دورے کرنے ہوں یا گریجویشن کے بعد نوکریوں کے لیے درخواست دینے کے واسطے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے؛
  •     طالبعلم/طالبہ کے خاندان یا اہل خانہ میں سے کسی کی وفات؛
  •     عدالت میں لازمی حاضری؛
  •     مذہبی یوم تعطیل کا اہتمام (اس طرح کی غیر حاضری کے سبب، طلباء کو کسی ایوارڈ سے یا کسی ایوارڈ کے لیے مقابلہ آرا ہونے کی اہلیت یا موقع سے یا متبادل ٹیسٹ یا امتحان دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے)؛
  •     طالبعلم/طالبہ کے گھر میں پیدا شدہ ہنگامی حالات جس میں بیمار یا زخمی شخص کی دیکھ بھال میں طالبعلم/طالبہ کی جانب سے خصوصی مدد درکار ہو؛ تاہم، اس عذر کا مستقل استعمال یا طویل عرصے تک غیر حاضری کی درخواستیں منظوری کے حوالے سے جانچ کے لیے پرنسپل کے پاس یا دفتر برائے طلباء کی خدمات کے پاس بھیجی جائیں؛
  •     ضابطہ 1-724 کے تحت پہلے سے منظور شدہ غیر حاضریوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور صرف انفرادی کیس کی بنیاد پر پرنسپل یا اس کے نامزد کی اجازت سے ہی ممکن ہے۔ اہل خانہ کے ساتھ سفر کو سکول کی چھٹیوں اور موسم گرما کی چھٹیوں میں شیڈول کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اہل خانہ کے ساتھ سفر کیلیئے غیر حاضری کو عذر کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ غیر معمولی حالات کا سامنا ہو۔ اس بات کا تعین کہ غیر معمولی حالات موجود ہیں یا نہیں، اس کا دارومدار پرنسپل کی صوابدید پر ہے جو سٹوڈنٹ سروسز کے دفتر کے تعاون سے ہو گا۔ ایسے عناصر جو غیر حاضری کی وجہ ہیں، تجویز کردہ تجربے کی تعلیمی قدر اور غیر حاضری کا طالبعلم/طالبہ کی تعلیمی ترقی پر اثر اس بات کا تعین کرنے میں مدنظر رکھا جائے گا کہ آیا پہلے سے منظور شدہ غیر حاضری کو منظور کیا جائے یا نامنظور؛
  •     پیشگی منظور شدہ غیر حاضریاں جو والد یا والدہ کی فوجی تعیناتی کی وجہ سے ہو؛
  •     پرنسپل کی طرف سے طے کیے گئے تخفیفی حالات کے اسباب؛ اور
  •     بے گھر طلباء جو ٹرانسپورٹیشن کے انتظامات کا انتظار کر رہے ہیں۔

غیر منظور شدہ غیر حاضری کی اقسام:

  •     تمام دن کا بھگوڑا پن؛
  •     کمرۂ جماعت کا بھگوڑا پن؛
  •     سواری یا بس چھوٹ جانا، یا گاڑی کی خرابی؛
  •     کسی غیر حاضری کے لیے کوئی مناسب وضاحت یا مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکامی؛ اور
  •     سکول پرنسپل کی پیشگی اجازت کے بغیر غیر منظور شدہ غیر حاضریاں۔

ورجینیا کوڈ، ورجینیا محکمہ تعلیم، اور PWCS کے ضابطہ 1-724، "حاضریاں اور عذر" کے تحت، سکول مجموعی طور پر پانچ یا زیادہ غیرحاضریوں والے طلباء کے لیے حاضری میں مداخلت کا اجلاس طلب کریں گے اور حاضری میں بہتری کا منصوبہ بنائیں گے۔ والدین سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ حاضری کے مداخلتی اجلاس میں شرکت کریں۔ شدید بھگوڑے پن والے طلباء کے والد یا والدہ (والدین) کے خلاف لازمی حاضری کے قوانین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے قانونی کاروائی کی جا سکتی ہے۔

غنڈہ گردی – “ غنڈہ گردی” سے مراد کوئی بھی جارحانہ اور بے جا سلوک، جس کا مقصد نشانہ بننے والے کو نقصان پہنچانا، خوف زدہ کرنا یا ذلیل کرنا ہے؛ جس میں جارح فرد یا افراد اور اس کے ہدف کے درمیان حقیقی یا بظاہر طاقت کا عدم توازن شامل ہوتا ہے؛ اور اس کو بار بار دہرایا جاتا ہے یا جس کے نتیجے میں جذباتی چوٹ پہنچتی ہے۔ غنڈہ گردی میں سائبر غنڈہ گردی شامل ہے۔ "غنڈہ گردی" میں معمولی چھیڑ خانی، اودھم مچانا، بحث کرنا یا دوستوں کا جھگڑا شامل نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کے ناقابل قبول استعمال کے دائرے میں ایسا استعمال شامل ہے جس میں سکول املاک کی حدود سے باہر ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال جس میں ایسا میٹریل ہے جو سکول ڈویژن کے کام کے عمل یا سکول ڈویژن کی عمومی فلاح کو متاثر کرے، تعلیمی عمل کے وقار کو متاثر کرے، طلباء، سٹاف یا سکول املاک کی فلاح و بہبود کو خطرے سے دوچار کر دے، یا بصورت دیگر ناقابل قبول استعمال سے طالبعلم/طالبہ یا اسٹاف کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف اصلاحی کاروائی، حتی کہ معطلی اور سکول سے اخراج ہو سکتا ہے۔ طلباء کو دستیاب فارم "غنڈہ گردی کی شکایت" استعمال کرتے ہوئے زبانی، رابطے کے کسی دیگر ذریعے سے بلا جھجک استاد/استانی، کونسلر، یا منتظم کو غنڈہ گردی کے واقعات بغیر کسی خوف و خطر کے رپورٹ کرنے چاہیئں۔ طلباء کو انتقامی کاروائی کے خوف کے بغیر غنڈہ گردی کے وقوعہ کی رپورٹ آزادانہ طور پر درج کرانی چاہیئے۔ انتقام کی کسی بھی کوشش کا اصلاحی اقدامات جو اخراج تک جا سکتے ہیں، کے ذریعے تدارک کیا جائے گا۔

سائبر غنڈہ گردی میں غنڈہ گردی کی وہ شکل جس میں الیکٹرانک پیغامات اور/یا تصاویر کی منتقلی، وصولی، یا اظہار شامل ہے۔ PWCS انٹرنیٹ، PWCS کمپیوٹرز، یا سکول کے اندر سکول املاک پر، یا سکول سے متعلق سرگرمیوں میں رابطے کے دیگر وائر لیس آلات کو استعمال کرتے ہوئے میں سائبر غنڈہ گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ عمل ضابطہ 1-295، "کمپیوٹر سسٹم و نیٹ ورک سروسز – PWCS کی استعمال اور انٹرنیٹ سیفٹی کے ذمہ دارانہ استعمال کی پالیسی"، اور ضابطہ 1-733.01، "طلباء کی غنڈہ گردی" سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

سائبر غنڈہ گردی اگر سکول کی حدود سے باہر ہو، اور/یا اس کے لیے PWCS کا انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کا استعمال نہ ہوا ہو تب بھی تادیبی کاروائی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس وجہ سے عملی طور پر سکولوں یا سکول ڈویژن کے انتظام میں خلل واقع ہوا ہو یا واقع ہو نے کے امکانات ہوں، اس وجہ سے طلباء یا سٹاف کی حفاظت یا انکی ذہنی/ جسمانی بہبود خطرے سے دوچار ہو جائے یا اس سے سکول کی عمارتوں یا املاک کو خطرہ لاحق ہو جائے۔

سائبر غنڈہ گردی ایک طالبعلم/طالبہ کا دوسرے طالبعلم/طالبہ کو دھمکیاں دینا ہے خاص طور سے ای میل کے ذریعے یا ویب سائٹ پر (جیسے بلاگز، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس الیکٹرانکس الیکٹرانک رابطے جن میں جان بوجھ کر، مخالفانہ، نقصان دہ پیغامات جس کا مقصد دوسروں کو نقصان پہنچانا ہو شامل ہیں؛ بشمول مطلبی، بیہودہ یا دھمکی آمیز پیغامات یا تصاویر بھیجنا؛ دوسرے فرد کی حساس، ذاتی معلومات شائع کرنا؛ کسی شخص کو برا دکھانے کیلیئے اپنے آپ کو اس کی جگہ پیش کرنا؛ اور ذلت آمیز آن لائن ذاتی پولنگ ویب سائٹس)۔

تماشائی - طلباء جو اپنی موجودگی اور/ یا افعال سے خلل ڈالنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لڑائی جھگڑا، یا "ضابطۂ اخلاق" کی دیگر خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوتے ہیں، انہیں تادیبی اقدامات کا سامنا کرنا ہو گا۔ خلاف ورزیوں میں تماشائیوں کی طرف سے جگہ چھوڑنے یا سکول کے عملے کی دیگر ہدایات ماننے سے انکار کر دینا، وغیرہ شامل ہیں، لیکن یہ انہیں تک محدود نہیں۔

گاڑیاں اور دیگر سواریاں - سکول کی حدود میں کاریں اور دوسری گاڑیاں صرف سکول انتظامیہ کی اجازت سے لائی جا سکتی ہیں اور یہ لازمی ہے کہ انہیں محفوظ انداز میں چلایا جائے جیسا کہ اس امر کی پابندی کرنے کی وضاحت سکول کے قواعد، ریاست اور مقامی قوانین میں کی گئی ہے۔ چونکہ کار یا دیگر گاڑی سکول املاک پر کھڑی ہے یا چلائی جا رہی ہے، اس وجہ سے کار یا دیگر گاڑی کے مالک اور/یا اسے چلانے والے، جیسا کہ ضابطہ 1-737 "تلاشیاں اور ضبطگیاں" کے باب میں تشریح کی گئی ہے، گاڑی میں ممنوعہ آئیٹم کی موجودگی کے معقول شبہہ کی بنیاد پر اُس گاڑی کی تلاشی پر رضا مندی دیتے ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سکول کی سطح پر اصلاحی اقدامات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سکول میں اصلاحی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا جن میں سکول کی املاک پر ڈرائیونگ کی رعایت کا خاتمہ ، سکول سے باہر معطلی (OSS)، مزید انضباطی کاروائی، اور قابل اطلاق قانونی جرمانے شامل ہو سکتے ہیں۔

نقل اور ادبی سرقہ - طلباء ٹیسٹوں، امتحانوں، حتمی امتحانوں یا کلاس کی اسائنمنٹس جن کی گریڈنگ ایک واحد فرد کا کام سمجھتے ہوئے کی جائے گی، اس نوعیت کے کام میں (تحریری، زبانی یا کسی اور شکل میں) نہ تو مدد لے سکتے ہیں اور نہ دے سکتے ہیں۔ نقل میں استاد کی مخصوص ہدایت یا منظوری کے بغیر کوئی کمپیوٹر فائل، پروگرام، پروگرام کا کوئی حصہ یا کمپیوٹر پر مبنی دوسری معلومات دینا یا لینا شامل ہے۔ نقل میں ایسے اصولوں کی خلاف ورزی شامل ہے جہاں خلاف ورزی میں بے ایمانی شامل ہو ۔ طالبعلم/طالبہ کو اس مخصوص اسائنمنٹس، امتحان، ٹیسٹ یا حتمی امتحان وغیرہ میں صفر نمبر دیے جائیں گے۔

والد یا والدہ سے رابطہ کیا جائے گا اور طالبعلم/طالبہ پر تعلیمی خلاف ورزی کے لیے مناسب تادیبی کاروائی کی جا سکتی ہے۔ سکول ایمانداری کی اہمیت پر زور ڈالنے کیلئے امتحانوں میں ایمانداری کا مظاہرہ کرنے کا حلف لینے کا اہتمام کریں گے۔ اس حلف کا انتظام کرنا پرنسپل کی صوابدید پر ہو گا۔

ادبی سرقہ نقل کی ایک قسم ہے۔ ان مآخذ جہاں سے مواد نقل کیا گیا ہو، تلخیص کی گئی ہو یا تفصیلی ترجمہ کیا گیا ہو، نیز جن افراد سے مدد حاصل کی گئی ہے، طلباء اس امر کے ذمہ دار ہیں کہ اس کا اعتراف کریں۔

کمیونیکیشن ڈیوائسز (وائر لیس)

سکول املاک پر طلباء کے پاس رابطے کی ڈیوائسز کی ملکیت ان کے لئے سہولت ہے، ان کا حق نہیں، کوئی بھی طالبعلم/طالبہ جو سکول املاک پر اپنے ڈیوائسز لاتا ہے وہ ان اصولوں اور سکول ڈویژن کے ان آلات کو ضبط کرنے اور /یا تلاشی لینے کے حق پر رضامندی ظاہر کرتا ہے۔ سکول بورڈ کی متعلقہ پالیسیوں اور ضوابط پر عمل کرنے میں ناکامی کے ذریعے طالبعلم/طالبہ یا سٹاف کی ملکیت کی ڈیوائسز کے استعمال سے متعلقہ رازداری کی امید کی نفی کی جاتی ہے۔ طلباء سکول املاک پر وائر لیس کمیونیکیشن ڈیوائسز بشمول سیل فون، ٹیبلٹ اور ای ریڈر مگر ان تک محدود نہیں، رکھ سکتے ہیں اور یہ ڈیوائسز صرف اس وقت اور اس صورت میں استعمال ہوں گی جیسے PWCS ضوابط میں بیان کیا گیا ہے اور اسے سکول پرنسپلز اور سٹاف ان کا اطلاق کرتے ہیں۔ تدریسی ماحول کی سالمیت کو برقرار رکھنے کیلیئے ان ڈیوائسز کا استعمال مخصوص اوقات اور مقامات پر ممنوع ہو سکتا ہے۔ ان ممنوعات کی خلاف ورزی کا نتیجہ تادیبی کاروائی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ وائر لیس مواصلاتی آلات کو سکول بسوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ آلہ ڈرائیور کا دھیان بٹانے، تحفظ پر سمجھوتہ کرنے کا سبب نہ بنے، یا دیگر سکول بس کے قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی نہ کرے۔ سکول بس میں موجود طلباء یا دیگر افراد کی ویڈیو ٹیپنگ، ریکارڈنگ، یا تصویریں لینا ممنوع ہے، جہاں ایسی سرگرمی کو دوسروں کو دھمکانے، شرمندہ کرنے، بے عزت کرنے کے لیے استعمال کیا جائے یا جہاں ڈرائیور یا دیگر سٹاف کے خیال میں ایسی سرگرمی سکول بس چلانے میں ڈرائیور کی توجہ میں خلل ڈالنے کی وجہ بنے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کی کمیونیکیشن ڈیوائس قبضے میں لے لی جائیں گی اور/یا دیگر اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔ کمیونیکیشن ڈیوائسز کی تلاش کی جا سکتی ہے اگر انتظامیہ کے پاس شک کرنے کی قابل قبول وجہ ہے کہ اسے کسی مجرمانہ مقصد یا "ضابطہ اخلاق" کی خلاف ورزی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سکول ڈویژن سٹاف رابطے اور/یا الیکٹرانک آلات جو سکول کی عمارت میں لائے جاتے ہیں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ سکول کی املاک پر، کسی بھی سکول سے متعلق سرگرمیوں میں یا سکول کی طرف آتے ہوئے یا جانے کے دوران یا سکول سے متعلق کسی بھی سرگرمی کے دوران، طلباء کسی بھی ایسے فرد کی ویڈیو نہیں بنائیں گے یا تصاویر نہیں بنائیں گے جو برہنہ یا نیم برہنہ ملبوس ہو۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف تادیبی کاروائی، حتی کہ سکول سے اخراج ہو سکتا ہے۔ ورجینیا کوڈ کے تحت، 386.1 - 18.2 § کے تحت، اگر اس جرم کا نشانہ بالغ ہے، تو یہ ایک قابل مواخذہ جرم ہے لیکن اگر شکار 18 سال سے کم ہے تو یہ سنگین جرم ہے۔

پراسرار نظریے کے حامل گروہ (cult) پُراسرار طاقت پر یقین رکھنے والے گروہ (Occult) ، مخصوص نظریات کی حامل رسومات - پُراسرار طاقت، نظریے اور اس سے متعلقہ رسومات ، سرگرمیوں اور ایسے گروہوں کے لیے رکن سازی کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سکول میں اور سکول سے متعلقہ سرگرمیوں میں پُر اسرار نظریے و طاقت سے متعلق افعال، تقاریر، اشارے، لباس، علامتیں یا رکنیت کو ظاہر کرنے والے نشانات یا سرگرمی کی ممانعت ہے۔

کرفیو - تمام طلبا کو کرفیو سے متعلق مقامی قوانین اور کرفیو سے مستثنیات سے آگاہ ہونا چاہئے 1 جولائی 1997 سے، پرنس ولیم کاؤنٹی میں 18 سال سے کم عمر کی لڑکیاں لڑکے جن کے ساتھ ذمہ دار بالغ فرد نہ ہو، کرفیو کی پابندی کے تحت آتے ہیں، جس کے مطابق ان افراد کا اتوار سے جمعرات تک رات 11 بجے سے صبح 5 بجے اور جمعہ اور ہفتہ کو رات 11:59 بجے سے صبح 5 بجے تک پبلک میں رہنا غیر قانونی ہے ۔ طلباء کو سکول کے زیر اہتمام تقریبات میں حاضری کے لیے اس قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ قانون میں دوسرے استثنا کی بھی گنجائش ہے۔ سبھی نوجوان افراد پر اس قانون کی شرائط جاننا اور انکی پابندی کرنا فرض ہے۔ مزید معلومات پرنس ولیم کاؤنٹی کی ویب سائٹ، پر دستیاب ہیں www.pwcgov.org۔

امتیازی سلوک - ﭘﺭﻧﺱ ﻭﻟﻳﻡ ﮐﺎﺅﻧﮢﯽ ﭘﺑﻠﮏ ﺳﮑﻭﻟﺯ ﻣﻼﺯﻣﺕ ﻣﻳں ﻳﺎ ﺍﭘﻧﮯ ﺗﻌﻠﻳﻣﯽ ﭘﺭﻭﮔﺭﺍﻣﻭں، خدمات، ﺍﻭﺭ ﺳﺭﮔﺭﻣﻳﻭں ﻣﻳں ﻧﺳﻝ، ﺭﻧﮓ، ﻣﺫﮨﺏ، ﻗﻭﻣﯽ ﻧﺳﺏ، جنس، صنفی شناخت، جنسی بنیاد، حمل، پچے کی پیدائش ﻳﺎ ﻣﺗﻌلقہ ﻁﺑﯽ ﮐﻳﻔﻳﺎﺕ، ﻋﻣﺭ، ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺣﻳﺛﻳﺕ، ﺳﺎﺑﻕ ﻓﻭﺟﯽ ﺣﻳﺛﻳﺕ، ﻣﻌﺫﻭﺭی، وراثتی معلومات ﻳﺎ کسی اور ﺑﻧﻳﺎﺩ ﭘﺭ ﺍﻣﺗﻳﺎﺯی ﺳﻠﻭک نہیں کرتا جو قانونی طور پر منع ہے۔ جن والدین یا طلباء کے پاس یہ یقین کرنے کی قابل قبول وجہ ہے کہ ان ساتھ تفریق کی گئی ہے، ان پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ اس معاملے پر سکول پرنسپل سے بات کریں یا وہ طالبعلم/طالبہ کے اپیل کے باقاعدہ طریقہ کار کے ذریعہ حل نکال سکتے ہیں۔

بے ایمانی - طلباء کو سکول سٹاف یا دوسرے طلباء کے خلاف جھوٹے الزامات نہیں لگائیں گے اور نہ ہی ایسی جھوٹی معلومات فراہم کریں گے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچ سکتا ہو یا عملہ کے فرائض میں مداخلت پیدا ہو سکتی ہو۔

نا فرمانی/ گستاخی- کوئی بھی طالبعلم/طالبہ، سکول کے عملہ کے کسی بھی ممبر کی کسی معقول گزارش سے رو گردانی یا حکم عدولی نہیں کرے گا۔ کوئی طالبعلم/طالبہ جو سکول عملہ کے کسی ممبر کی طرف فحش زبان، دھمکیاں یا زبانی بد سلوکی کی دوسری شکل اختیار کرے گا، OSS کا مرتک ہو گا اور اس کے لیے اخراج پر غور کیا جائے گا۔

خلل ڈالنا - کوئی بھی طالبعلم/طالبہ سکول املاک میں رہتے ہوئے، سکول کی پیش کردہ سرگرمی میں یا سکول بسوں پر بے ہنگم انداز یا ایسے طریقے سے برتاؤ نہیں کرے گا جس سے سکول کے نظام کار میں مداخلت یا خلل پڑتا ہو۔ سکول کے احاطوں سے باہر پیش آنے والا ایسا برتاؤ جس کی وجہ سے سکول، تعلیمی عمل یا طلباء یا عملے کے حقوق میں خلل پیدا ہو، اس کے نتیجے میں سکول میں اصلاحی کاروائی ہو سکتی ہے۔

منشیات اور ممنوعہ اشیاء کا بے جا استعمال - کوئی بھی طالبعلم/طالبہ الکحل، منشیات یا الکحل یا منشیات کی طرح لگنے والی کوئی بھی چیز نہیں رکھے گا نہ استعمال کرے گا۔

الیکٹرانک تفریحی ڈیوائسز - طلباء سکول جاتے اور وہاں سے آتے ہوئے راستے میں تفریحی الیکٹرانک آلات کا استعمال کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان اشیاء کی وجہ سے بس ڈرائیور کی توجہ منتشر نہ ہو اور/یا سلامتی کو خطرہ نہ ہو۔ اس کے علاوہ ان آلات کے استعمال سے سرگرمیوں سے توجہ نہیں ہٹنی چاہیے یا ان میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔ تعلیمی دن کے دوران یا سکول کی پیش کردہ تقریبات اور سرگرمیوں میں، طلباء آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ نہیں کر سکتے جس کا مقصد دوسرے طلباء یا بالغان کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال یا تقسیم کرنا ہو یا جو تدریسی عمل میں خلل کی وجہ بنے۔ خلاف ورزی کرنے والے کو آلے کی ضبطی اور/ یا اصلاحی کاروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔ سکول ڈویژن سٹاف رابطے اور/یا الیکٹرانک آلات جو سکول کی عمارت میں لائے جاتے ہیں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ سکول کی املاک پر، کسی بھی سکول سے متعلق سرگرمیوں میں یا سکول کی طرف آتے ہوئے یا جانے کے دوران یا سکول سے متعلق کسی بھی سرگرمی کے دوران، طلباء کسی بھی ایسے فرد کی ویڈیو نہیں بنائیں گے یا تصاویر نہیں بنائیں گے جو برہنہ یا نیم برہنہ ملبوس ہو۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف تادیبی کاروائی، حتی کہ سکول سے اخراج ہو سکتا ہے۔ ورجینیا کوڈ، 386.1 - 18.2 § کے تحت، اگر اس جرم کا نشانہ بالغ ہے، تو یہ ایک قابل مواخذہ جُرَم ہے لیکن اگر شکار 18 سال سے کم ہے تو یہ سنگین جرم ہے۔

دوسروں کو خطرے میں ڈالنا - طلباء کے ایسے برتاؤ کی اجازت نہیں ہو گی جو دوسروں کو خطرے میں ڈال سکتا ہو۔ اس میں آتش زدگی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزیاں؛ آتش زدگی کی جھوٹی رپورٹیں درج کروانا؛ ماچس جلانا؛ کوئی ایسی چنگاری جلانا جو کلاس روم کی تعلیم کا منظور شدہ حصہ نہ ہو؛ آتش گیر یا دھماکہ خیز مادوں کا استعمال؛ اور کسی بھی طریقے سے سکول کی املاک کو یا سکول کے عملے یا طلباء کی املاک کو دھماکے سے اڑانے، جلانے یا تباہ کرنے کی دھمکیاں یا کوششیں شامل ہیں لیکن یہ انہیں تک محدود نہیں ہیں۔

خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے میں ناکامی - ہمارے سکولوں میں تحفظ اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے طلباء "ضابطۂ اخلاق" کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاع اساتذہ، منتظمین، دیگر متعلقہ عملے یا PWCS کی شناخت پوشیدہ رکھنے والی ٹپ لائن پر دینے کے ذمہ دار ہیں۔ سنگین خلاف ورزیوں میں ایسا برتاؤ یا رویہ شامل ہے جس کے نتیجے میں طلباء یا عملہ کی ذات، صحت یا بہبود کو ضرر یا املاک کو نقصان پہنچے یا نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔ اطلاع نہ دینے کے نتیجے میں اصلاحی کاروائی ہو سکتی ہے۔

لڑائی جھگڑا - طلباء پرامن انداز اور تشدد کے استعمال کے بغیر طے ہو سکنے والے اختلافات کا تصفیہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم جب طلباء کو یہ محسوس ہو کہ وہ پرامن انداز میں اختلافات کا تصفیہ کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں اسکول کے عملے، جیسے اساتذہ، کونسلنگ، پرنسپل، سماجی کارکن وغیرہ سے معاونت لینی چاہیے۔ لڑائی کا نتیجہ اصلاحی اقدام کی شکل میں برآمد ہو گا جس میں معطل یا اخراج شامل ہو سکتا ہے۔ طلباء کو ایسے رویے کے لیے اصلاحی اقدام کا سمانا کرنا ہو گا جنہیں وہ سنگین یا دھمکی آمیز خیال نہیں کرتے ہیں ("اودھم مچانا"، "ادھر ادھر بھاگنا" وغیرہ) جب کہ اس رویے سے چوٹ، تکلیف یا خلل پیدا ہو سکتا ہو۔

جوئے بازی - سکول کی املاک میں جوئے بازی سختی کے ساتھ ممنوع ہے۔ جوئے بازی سے مراد کسی کھیل، مقابلہ یا ایونٹ کے نتیجے پر رقم یا مالیت والی چیزیں داؤ پر لگانا ہے۔

گینگ - گینگ کی سرگرمی، گروہ کے لیے بھرتی، گروہ کی رکنیت کا اظہار برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سکول میں اور سکول سے متعلقہ سرگرمیوں میں گروہ کی رکنیت یا گروہی سرگرمی والی کاروائیاں، تقریر، وضع قطع، لباس علامات یا دوسرے نشانات ممنوع ہیں۔ گروہ سے تعلق رکھنے والی لڑائی یا حملے میں ملوث کسی بھی طالبعلم/طالبہ کے اخراج پر غور کیا جائے گا۔

گروہ کی صورت میں حملہ - سکول میں، سکول سے متعلقہ سرگرمیوں میں یا سکول جاتے اور وہاں سے واپس آتے ہوئے راستے میں گروپ کا حملہ سختی کے ساتھ ممنوع ہے۔ کوئی بھی طالبعلم/طالبہ جو ایسے گروہی دھاوے میں شامل ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں سکول یا سکول سے متعلق سرگرمیوں میں خلل یا اضطراب پیدا ہو تو اصلاحی کاروائی کے ساتھ ساتھ اخراج بھی مشروط ہو گا۔ کوئی بھی طالبعلم/طالبہ جو دوسرے افراد یا گروہوں پر گروہی دھاوے میں شامل ہوں گے، ان کیلیئے اخراج کی سفارش کی جا سکتی ہے۔ اس اصول کے تحت، کسی دو یا زیادہ طلباء کا افراد، املاک یا سکول کے ماحول کو نقصان پہنچانے کی نیت کو گروپ تصور کیا جائے گا۔

شیشے کے برتن - طلباء سکول کے عملہ کے ممبر کی واضح اجازت کے بغیر شیشے کی بوتلیں یا اس طرح کے ٹوٹنے والے ڈبے سکول املاک میں یا سکول سے متعلقہ سرگرمیوں میں اپنے پاس نہیں رکھیں گے۔

ہراسانی - الفاظ، حرکات، اشارے یا جسمانی افعال جس سے دوسرے پریشان یا ہراساں ہوں، دھمکی آمیز یا دوسروں کو تنگ کریں، قطعی طور پر قبول نہیں کیے جائیں گے۔ اس ميں غیر جسمانی طور پر ڈرانا، مخصوص طریقے سے کھڑے ہونا یا "اوپر سے نیچے تک گھورنا" شامل ہے۔ کسی بھی وجہ سے طلباء یا عملے کو ہراساں کرنے کی ممانعت ہے۔ اس کے علاوہ، ضابطہ 3-738 "طلباء کی ہراسانی" کے مطابق، ہراسانی قانوناً ممنوع ہے۔ شکایت درج کرانے کا طریقہ کار ضابطہ 1-738 "امتیازی سلوک یا ہراسانی کی طالبعلم کی شکایت کا طریقہ کار" میں دیکھیے۔

نوواردوں کو پریشان کرنا - طلباء ایسے طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کریں گے جو لا پرواہی سے یا جان بوجھ کر دوسروں کی صحت و سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہو یا کسی کلب، گروپ، تنظیم یا طلباء کی انجمن میں شمولیت، الحاق یا داخلے کے سلسلے میں کسی طالبعلم/طالبہ کو جسمانی ضرر پہنچاتا ہو۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف اصلاحی اقدامات، بشمول معطلی، اخراج اور ممکنہ مجرمانہ نتائج شامل ہو سکتے ہیں۔

ناشائستہ مواد- کوئی بھی طالبعلم/طالبہ ناشائستہ (واہیات، عریاں، فحش، ناگوار) مواد جس میں لباس، پوسٹرز، تحریری/مطبوعہ مواد، CDs، DVDs، تجارتی کارڈز اور کمپنی پر مبنی مواد شامل ہیں؛ اپنے پاس نہیں رکھیں گے، نہیں پہنیں گے/ نمائش نہیں کریں گے، تیار یا تقسیم نہیں کریں گے۔

لیزر پوائنٹرز - طلباء سکول کے منتظم یا عملہ کے ممبر کی اجازت کے بغیر سکول میں، سکول بس پر یا سکول سے متعلق سرگرمیوں میں لیزر پوائنٹرز یا لیزر والے دیگر آلات نہیں رکھیں گے۔ خلاف ورزی کرنے والے اصلاحی اقدامات کے مستوجب ہیں اور پوائنٹر/آلہ ضبط کیا جا سکتا ہے۔

گندگی پھیلانا - طلباء کیفے ٹیریا، کلاس رومز، کمروں یا سکول میں اور سکول کے احاطوں میں، بسوں پر، بس اسٹاپ پر اور سکول سے متعلقہ سرگرمیوں میں کسی اور جگہ پر کوڑا مناسب طریقے سے ٹھکانے لگا کر کے سکول کے ماحول کو صاف اور صحت بخش رکھنے میں مدد کریں گے۔

گاڑی چلانے کی رعایت سے محرومی

سکول سے باہر املاک پر جرائم - سکول کی حدود سے باہر کئے جانے والے افعال جن کا سکول کی عمارت ، پروگراموں، طلباء یا سکول کے عملے پر منفی اثر پڑے، انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سکول بورڈ اور PWCS سٹاف اپنے سکولوں کو صحت مند اور محفوظ جگہیں بنانے کے اس عہد پر کار بند ہیں کہ تعلیم کے لیے ان جگہوں کو تشدد، اسلحے، گینگ سرگرمیوں، منضبط مواد، اور دیگر منفی اثرات سے پاک رکھا جائے۔ ایسے جرائم جو کمیونٹی میں یا سکول کی حدود کے باہر ہوں اور اس کے نتیجے میں سکول یا تدریسی عمل میں خلل پڑے یا طلباء، عملے یا سکول کی املاک کے حقوق، تحفظ یا بہبود پر اثر پڑے، طلباء کو سکول کی سطح پر اصلاحی اقدامات سے لیکر اخراج تک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ورجینیا کے قانون کے تحت، طالبعلم/طالبہ کو عدالت کی طرف سے منشیات کی نگرانی کے لئے تیاری، فروخت، فراہمی، تقسیم یا رکھتے ہوئے پائے جانے کی صورت میں بھی سکول سے خارج یا معطل کیا جا سکتا ہے اگرچہ جرم کا تعلق سکول سے نہ ہو۔ اس کے علاوہ، ورجینیا کا قانون بتاتا ہے کہ طالبعلم/طالبہ کو (متبادل تعلیمی پروگرام متبادل سکول، شبینہ سکول، آن لائن وسائل، وغیرہ) میں دوبارہ تفویض کیا یا اس میں اسے ڈالا جا سکتا ہے۔ اس بات کا علم ہونے پر کہ طالبعلم/طالبہ پر مخصوص فوج داری جرائم عائد ہوئے ہیں، جس میں اسلحہ، شراب/منشیات سے تعلق رکھنے والے جرائم، ارادتاً کسی شخص کو ضرر پہنچانا شامل ہے یا اسے سزاوار قرار دیا گیا ہے یا مخصوص فوجداری جرائم میں بے قصور نہیں پایا گیا ہے، جیسا کہ ضابطہ 1-681، "غیر روایتی تعلیمی پروگرامز" میں مذکور ہے۔ مخصوص سکول کے رپورٹ ہونے والے جرائم کے الزامات کا نتیجہ دوبارہ تفویض، طویل المدتی معطلی یا اخراج ہو سکتا ہے۔ طلباء کو اس صورت میں بھی غیر روایتی تعلیمی پروگرام میں دوبارہ تفویض کیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سکول بورڈ کی پالیسیوں کی خلاف ورزی میں سنگین جرم یا مکرر جرائم کا ارتکاب کیا ہو یا انہیں معطل یا خارج کیا گیا ہو۔

فحش کلامی - کوئی بھی طالبعلم/طالبہ واہیات، جنسی زبان ، بظاہر ناگوار یا ناشائستہ زبان یا اشارے استعمال نہیں کرے گا/گی۔

تلاش اور ضبطگی - طلباء سکول میں یا سکول سے متعلقہ سرگرمیوں کے دوران اپنے پاس موجود اشیا کے لیے جواب دہ ہوں گے۔ طلباء کے ڈیسک اور لاکر سکول کی ملکیت ہیں اور سکول کے عہدیداران ان کی تلاشی لینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سکول کی املاک واپس لینے یا جو مواد سکول میں لانے کی اجازت نہیں ہے ان کی نشاندہی کرنے کے لیے لاکر یا ڈیسک کی تلاشی لی جا سکتی ہے۔ طلباء کے ذاتی سامان اور ان کے زیر اختیار آئٹمز (بشمول کاروں) کی بعض حالات میں تلاشی لی جا سکتی ہے جیسا کہ ضابطہ 1-737 "تلاشیاں اور ضبطگیاں" میں بیان کیا گیا ہے۔ سکول ڈویژن تلاشیوں میں تربیت یافتہ کتوں کو استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ غیر معقول تلاشی اور ضبطی کے خلاف طالبعلم/طالبہ کی پرائیویسی اور آزادی کے انفرادی حق کو سکول کمیونٹی میں تمام افراد کی صحت، سلامتی اور بہبود کی حفاظت سے متعلق سکول کی ذمہ داری کے ساتھ متوازن کیا گیا ہے۔ تلاشی کے دوران غیر قانونی مواد ملنے کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی جائے گی ۔ جب انتظامیہ کو اس بات کا معقول شبہہ ہو کہ طالبعلم/طالبہ کے قبضے میں ضابطے میں واضح کردہ ممنوعہ اشیا ہیں اور اس صورت میں طالبعلم/طالبہ تلاشی لیے جانے سے انکار کر دے تو والدین اور/یا حکام سے رابطہ کیا جائے گا اور طالبعلم/طالبہ تادیبی کاروائی کا مستوجب ہو سکتا/سکتی ہے۔

تمباکو نوشی - PWCS کے تمام سکول تمباکو نوشی سے پاک ہیں۔ تمباکو نوشی اور ویپنگ کی PWCS کی کسی عمارت میں کسی بھی وقت اجازت نہیں ہے۔ طلباء کو، ان کی عمر سے قطع نظر، سکول بسوں میں، سکول کی عمارتوں میں یا سکول کی املاک پر، یا سکول کی پیش کردہ سرگرمیوں میں سائٹ پر یا آف سائٹ، سگریٹ پینے یا تمباکو والی مصنوعات، ویپر پیرافرائن، سگریٹ، ماچس یا لائٹرز، یا دیگر الیکٹرانک سگریٹ والی اشیا، رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

تمباکو والی مصنوعات رکھنے یا اس کا استعمال کرنے یا تمباکو والی ویپور اشیا میں ملوث طلباء پر جرمانے، سکول سے معطلی سے لے کر دیگر مؤثر اختیارات شامل ہیں جن کا تعین پرنسپل انفرادی طلباء کے لیے مناسب اقدامات کریں گے۔ ان سزاؤں میں OSS، سکول میں معطلی (ISS)، نظر بندی، سکول/کمیونٹی کے پراجیکٹس اور مقامی اتھارٹی میں الزامات جمع کرانا شامل ہیں۔ مڈل اور ہائی سکول میں طلباء کی مدد کے لیے تعلیمی پروگرام دستیاب ہیں جن انہیں صحت پر تمباکو نوشی وار تمباکو کے استعمال س منسلک منفی اثرات کے بارے میں سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔

طالبعلم/طالبہ کا لباس اور ظاہری تاثر طلباء کو ہر تعلیمی دن کی کامیابی کے لیے لباس پہننے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان کا مجموعی اظہار، جب وہ سکول املاک پر ہیں، ایسے ماحول کے لیے مناسب ہوتا چاہیے جو سب کے لیے تعلیم پر توجہ دینے کا سبب ہو۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ طالبعلم/طالبہ کا لباس پورے تعلیمی سال کے دوران باہر کے موسم کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، تاہم، طلباء سے کسی بھی ایسی قسم کے کپڑے پہننے سے احتراز کرنے کو کہا جاتا ہے جو تعلیمی عمل یا سکول کے کاموں اور پروگراموں میں رکاوٹ یا خلل کا باعث بنے۔ جن طلباء کی ظاہری صورت تدریس میں خلل کا باعث بنے انہیں مناسب کپڑے تبدیل کرنے کو کہا جا سکتا ہے۔

1 جولائی، 2020 سے ورجینیا کوڈ §§ 276.01-22.1 اور 279.6-22.1 کا نفاذ مقامی بورڈ سے لباس اور تیاری کے لحاظ سے درج ذیل کا تقاضا کرتا ہے:

تعلیمی بورڈ سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ طالبعلم/طالبہ کے طرز عمل میں اپنے رہنما اصولوں اور ماڈل پالیسیوں کے لیے درج ذیل کو شامل کریں (i) طالبعلم/طالبہ کے طرز عمل کے کسی کوڈ کے نفاذ میں تعصب اور ہراسانی کو کم کرنے کے معیارات اور (ii) لباس یا تیاری کے کوڈ کے معیارات، جنہیں بل طالبعلم/طالبہ کے طرز عمل کے کسی پریکٹس، پالیسی، یا حصے کو بیان کرتا ہے جسے سکول بورڈ اختیار کرتا ہے تاکہ کسی داخل طالبعلم/طالبہ کے لباس پر نظر رکھے یا اس پر پابندی عائد کرے۔ بل کسی سکول بورڈ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ طالبعلم/طالبہ کے اپنے کوڈ میں ایک لباس یا تیاری کے کوڈ کو شامل کرے۔ بل تقاضا کرتا ہے کہ سکول بورڈ کے طالبعلم/طالبہ کے طرز عمل کے کوڈ میں لباس یا تیاری کا کوڈ شامل ہو یا بصورت دیگر سکول بورڈ نے اپنایا ہو جس میں (a) کسی طالبعلم/طالبہ کو کسی مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے مخصوص سر کو ڈھانپنے یا بالوں کے سٹائل کی اجازت ہو جس میں حجاب، یہودیوں کی ٹوپی، سر ڈھانپنا، مینڈیاں، لاکرز، اور کارن رو؛ (b) صنفی غیر جانبداری کو برقرار رکھیں، کسی بھی طالبعلم/طالبہ کی صنف سے قطع نظر اصولوں اور معیارات کا ایک ہی سیٹ رکھا جائے؛ (c) کسی خاص صنف کے طلباء پر کوئی مختلف اثر نہ پڑے؛ (d) استعمال ہونے والی اصطلاحات میں واضح، مخصوص اور بامقصد رہیں؛ (e) کسی سکول بورڈ ملازم کو منع کرتا ہے کہ لباس یا تیاری کوڈ کے نفاذ کے سلسلے میں طالبعلم/طالبہ یا طالبعلم/طالبہ کے لباس کے بارے میں براہ راست جسمانی رابطہ کرے؛ اور (f) کسی سکول بورڈ ملازم کو منع کرتا ہے کہ وہ کسی طالبعلم/طالبہ کو کسی دوسرے فرد کے سامنے کپڑے اتارنے کو کہے، بشمول اگر سکول بورڈ ملازم لباس یا تیاری کے کوڈ کی تعمیل میں اسے نافذ کرنا چاہ رہا ہے۔

PWCS کی لباس اور ظاہری تاثر کے رہنما اصول طالبعلم/طالبہ کے اظہار اور سٹاف کے نفاذ میں مساوات کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں اور ان کا مقصد نسل، رنگ، مذہب، قومیت، جنس، صنفی شناخت، جنسی رجحان، عمر، معذوری، جنییاتی معلومات، یا کسی اور کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتا جو قانونی طور پر منع ہے۔ طلباء کو کسی قسم کے مخصوص مذہبی اور اخلاقی یا نمایاں سر کو ڈھانپنا یا بالوں کا سٹائل بنانے کی اجازت ہے۔

سر کو ڈھانپنے اور بالوں کے سٹائل جن کی اجازت ہے میں درج ذیل شامل ہیں مگر ان تک محدود نہیں:

  •     حجاب؛
  •     یہودیوں کی خصوصی ٹوپی؛
  •     ہیڈ ریپ؛
  •     چوٹیاں؛
  •     لاکس؛ اور
  •     کارن رو

ورجینیا کوڈ §§ 276.01-21.1 اور 279.6-22.1 کے مطابق، لباس اور ظاہری تاثر کے یہ رہنما اصول صنف کی غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ صنف سے قطع نظر ہر طالبعلم/طالبہ کے لیے اصولوں اور معیارات کا ایک ہی سیٹ ہو اور کسی مخصوص صنف کے طلباء پر مختلف اثر نہ ڈالے۔

کپڑوں کی ممنوعہ اشیا میں درج ذیل شامل ہیں:

ایسے کپڑے جو:

  •     ننگی جلد کو اس حد تک ظاہر کرے جو دوسروں کی توجہ ہٹائیں یا دیگر طلباء یا سٹاف کی توجہ میں ممکنہ طور پر خلل ڈالے؛
  •     انڈر گارمنٹس نظر آئیں؛
  •     ایسے انداز میں پہنیں جائیں جس سے انڈر گارمنٹس نظر آئیں؛
  •     ان پر غیر مہذب، امتیازی سلوک والے، واضح طور پر ناگوار یا فحش زبان یا تصاویر موجود ہوں؛
  •     دھمکیاں یا گینگ کی علامات موجود ہوں؛
  •     ہتھیاروں اور تشدد کے استعمال، یا شراب، تمباکو یا غیر قانونی منشیات، اور/یا متعلقہ پیرافنیلیا کے استعمال کو فروغ دے؛ اور
  •     تدریسی ماحول میں خلل کی وجہ یا ممکنہ سبب بنے۔

درج ذیل استثنا کے ساتھ سر پر ایسا کپڑا جو پورے سر یا چہرے کو ڈھانپے:

  •     کوئی اپنے مذہب کے حصے کے طور پر پہنے؛ یا
  •     طبی وجوہات کی وجہ سے پہنے؛ یا
  •     وبائی امراض کے پھیلاؤ کی صورت میں، ذاتی بچاؤ کی تدابیر کے طور پر پہنے؛ یا
  •     سکول کے منظور شدہ تقریب کی وجہ سے پہنے؛ یا
  •     کسی کے ثقافتی یا اخلاقی پس منظر کے اظہار کی وجہ سے پہنے۔

زیورات یا دیگر اشیا جو ہتھیار کے طور پر لی جا سکتی یا استعمال ہو سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کا غلط استعمال - کمپیوٹرز، کمپیوٹر نیٹ ورکس اور دیگر الیکٹرانک ٹیکنالوجی کا استعمال صرف معقول تعلیمی مقاصد کے لیے اور سکول کے عملے کے رکن کی منظوری

ان پالیسیوں اور ضوابط کی نقول PWCS کی ویب سائٹ www.pwcs.edu پر دستیاب ہے۔

  •     دوسروں کی رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی کرنا؛
  •     فحاشی، عریانیت یا ایسے مواد کا استعمال، تیاری، تقسیم یا وصول کرنا جس سے دوسروں کو پریشانی ہو، ہراسانی ہو، انہیں ٹھیس پہنچے، انہیں دھمکی ملے یا ان کی توہین ہو؛
  •     اس میں سائبر غنڈہ گردی، غنڈہ گردی کی ایک شکل جس میں الیکٹرانک پیغامات اور/یا تصاویر کی منتقلی شامل ہیں؛
  •     وائر لیس رابطے کے آلے کا استعمال کر کے جنسی نوعیت کی تصویریں، پیغامات یا دیگر مواد تیار کرنا، منتقل کرنا، رکھنا اور/یا ان کا اشتراک کرنا؛
  •     حق اشاعت کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجارتی سافٹ ویئر کو نقل کرنا؛
  •     ٹیکنالوجی کو مالی منافع یا تجارتی یا غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال کرنا؛
  •     ٹیکنالوجی کو مصنوعات کی تشہیر یا سیاسی حمایت کے لیے استعمال کرنا؛
  •     مصنف کی پیشگی اجازت کے بغیر ذاتی مواصلات دوبارہ شائع کرنا؛
  •     ٹیکنالوجی کو "ضابطۂ اخلاق" کے دوسرے اصول و ضوابط کے برخلاف استعمال کرنا؛ اور
  •     ٹیکنالوجی کے ناقابل قبول استعمال کے دائرے میں ایسا استعمال شامل ہے جس میں سکول املاک کی حدود سے باہر ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال جس میں ایسا میٹریل ہے جو سکول ڈویژن کے کام کے عمل یا سکول ڈویژن کی عمومی فلاح کو متاثر کرے، تعلیمی عمل کے وقار کو متاثر کرے، طلباء، سٹاف یا سکول املاک کی فلاح و بہبود کو خطرے سے دوچار کر دے، یا بصورت دیگر ناقابل قبول استعمال سے طالبعلم/طالبہ یا اسٹاف کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔

اس پالیسی، اور "قابل قبول استعمال کے رہنما اصولوں" کی خلاف ورزیوں کا نتیجہ اصلاحی اقدامات، ٹیکنالوجی و استعمال کی رعایت سے محرومی، اور قانون کے مطابق جرمانوں کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ جان بوجھ کر غیر ذمہ داری کے مظاہرے کو عناد سمجھا جا سکتا ہے اور یہ اصلاحی کاروائی یا تعزیری جرمانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی سسٹم کی کارکردگی گھٹانے یا اس میں خلل ڈالنے کی ارادی کوشش کو قابل اطلاق ریاستی اور وفاقی قانون کے تحت مجرمانہ سرگرمی مانا جائے گا۔

چوری - سکول املاک یا دوسروں کی ذاتی املاک اجازت کے بغیر لینا یا اجازت کے بغیر لینے کی کوشش کرنا واضح طور پر ممنوع ہے۔ طالبعلم/طالبہ کے نسخے میں لکھی گئی ادویات کی چوری یا چوری کی کوشش سے متعلق تمام واقعات کی اطلاع پرنسپل یا ان کے نامزد کو دی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے سکول میں اصلاحی کاروائی کے مستوجب ہیں اور قانونی کاروائی کے لیے انہیں مناسب حکام کے پاس بھیجا جا سکتا ہے۔

دھمکی - ایک دھمکی ایسا پریشان کن رابطہ یا طرزعمل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ایک فرد اپنے تشدد یا دیگر طرزعمل کے ذریعے سکول سٹاف یا طلباء کے تحفظ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے جو اسے خود کو یا دوسروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ دھمکی کا اظہار زبانی، برتاؤ میں، تحریری، الیکٹرانک، یا دوسرے طریقوں سے ہو سکتا ہے؛ اور اسے خطرہ ہی سمجھا جائے گا چاہے ہدف کے لیے خطرے کا مشاہدہ یا رابطہ براہ راست ہو یا کوئی تیسرا فرد اس کا مشاہدہ یا رابطہ کرے، چاہے ہدف اس خطرے سے آگاہ ہو یا نہیں کہ خطرہ زبانی، بصری، تحریری یا الیکٹرانک طریقے سے موجود ہے۔ ہر سکول کی دھمکیوں کی جانچ کی ٹیم ہوتی ہے جو ان افراد کی جانچ اور مداخلت کرتی ہے جن کا طرز عمل سکول سٹاف یا طلباء کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ PWCS کی دھمکی کی جانچ کے طریقہ کار ضابطہ 1-777 "دھمکی کی جانچ کے طریقہ کار" میں درج ہیں۔

بے جا مداخلت - طلباء کو سکول کے معمول کے اوقات کے دوران سکول کی عمارت کے منظور شدہ حصوں یا احاطے میں موجود ہونا چاہیئے، سکول کے اوقات کے علاوہ سکول کے عملے کے رکن کی اجازت سے سکول کی عمارتوں اور احاطوں کے منظور شدہ حصے میں رہنا چاہیے۔ طلباء کی اپنے داخلے والے سکول کے علاوہ کسی اور سکول میں موجودگی کو بے جا مداخلت خیال کیا جائے گا، الا یہ کہ وہ سکول کی کسی منظور شدہ سرگرمی میں شرکت کر رہے ہوں یا ان کے پاس سکول کے عملہ کے ممبر کی اجازت ہو۔ OSS طلباء کو پرنسپل کی تحریری اجازت کے بغیر سکول کی املاک پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ الہ یہ کہ طالبعلم/طالبہ کے پاس سکول املاک پر، سکول بسوں پر یا سکول کے زیر اہتمام سرگرمی میں موجود رہنے کے لیے سکول کے اسٹاف کی تحریری اجازت ہو۔ ایسے طالبعلم/طالبہ جن کی طویل مدتی معطلی یا اخراج کے کیس کا فیصلہ ہونا باقی ہے (سوائے ان کیسوں کی سماعت کے)، انہیں سکول کی املاک، سکول بسوں یا سکول کے زیر سرگرمیوں میں شرکت سے منع کر دیا گیا ہے۔ کسی سکول املاک پر بے جا مداخلت کرنے والے طلباء کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے اور وہ سکول میں تادیبی کاروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ سکول میں ملاقات کیلئے آنے والوں کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنی آمد کی اطلاع براہ راست دفتر میں دیں۔

بھگوڑا پن - 18 سال کی عمر تک سکول میں پڑھنا لازمی سکول ہے الّا یہ کہ طالبعلم/طالبہ کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہو یا GED® پروگرام مکمل کر لیا ہو۔ سکول کے حاضری افسران کو حاضری کے تقاضے لاگو کرنے اور ضرورت پڑنے پر طالبعلم/طالبہ اور/یا والدین کو قانونی کاروائی کے لیے عدالت میں پیش کرنے کا اختیار ہے۔

توڑ پھوڑ - کوئی بھی طالبعلم/طالبہ حاسدانہ طور پر یا جان بوجھ کر سکول املاک یا دوسروں کی نگرانی کے لئے ذاتی چیزوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا/ گی، انہیں بد شکل یا برباد نہیں کرے گا/ گی۔ (اس میں گرافٹی [بے ڈھنگی تصویریں] کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک غارت گری بھی شامل ہے۔) طالب علم املاک کے ٹوٹنے یا برباد ہونے پر اس کی اصل قیمت کی ادائیگی کیلئے ذمہ دار ہوں گے، یا سکول بورڈ کی ملکیت یا اس کی زیر نگرانی املاک کی واپسی میں ناکامی کی صورت میں بھی اصل قیمت کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوں گے۔ سکول بورڈ کی زیر ملکیت یا زیر اختیار املاک واپس نہ کرنے والے طلباء کے خلاف اصلاحی کاروائی کی جا سکتی ہے۔ ورجینیا کا قانون سکول بورڈ کو ایسے طلباء کے والدین سے اس طرح کے نقصانات کی قیمتیں وصول کرنے کے لیے قانونی کاروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

سکول، کھیل، کلب، اور سرگرمی کے اصولوں کی خلاف ورزی "ضابطۂ اخلاق" کے اصول و ضوابط کے علاوہ، طلباء سے اپنے سکولوں کے ذریعہ طے کردہ اصولوں کی اور جن سپورٹس، کلبز اور سرگرمیوں میں وہ شرکت کرتے ہیں ان کے اصولوں کی تعمیل کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے اصلاحی کاروائی کے مستوجب ہیں جیسا کہ "ضابطۂ اخلاق" یا سکول کے کتابچے میں بیان کیا گیا ہے۔ طلباء کو ٹیم یا سرگرمی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر اسپورٹس، کلب یا سکول کی زیر کفالت دوسری سرگرمیوں میں شرکت کرنے سے معطل کیا جا سکتا ہے اگرچہ خلاف ورزی سکول کی عمارت سے باہر اور تعلیمی دن سے باہر ہوئی ہو۔ اس میں تمباکو، شراب یا دوسرے منشیات کے استعمال سے متعلقہ ٹیم کے تربیتی اصولوں کی خلاف ورزیاں شامل ہیں، لیکن یہ انہیں تک محدود نہیں ہیں۔

اسلحہ - طلباء اسلحے، اسلحہ جیسی نظر آنے والی یا دیگر نقصان پہچانے والی چیزیں سکول کی املاک پر اور سکول سے متعلق سرگرمیوں کے دوران نہیں رکھیں گے۔

 

قواعد و ضوابط

سکول بس میں سفر کرنے کے قواعد

عمومی قواعد

PWCS پالیسیوں، ضوابط، اور اس "ضابطۂ اخلاق" میں طالبعلم/طالبہ کے طرزعمل کے تمام طے شدہ اصول، طالبعلم/طالبہ کے طرزعمل سکول بس یا PWCS کی منظور شدہ گاڑی جو طلباء کو سکول لے کر جاتی یا سکول سے لاتی ہے اور/یا سکول سے متعلقہ تقریبات اور سرگرمیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔

ورجینیا کوڈ، § 176-22.1  سکول بورڈ کو طلباء لیے ٹرانسپورٹیشن فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن ان سے ایسا کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا ہے۔ PWCS کے لیے، سکول کی حدود کے اندر ایک میل سے زیادہ دور رہنے والے طلباء کو ہر روز بس سروس فراہم کی جاتی ہے۔ ایسے طلباء جو ٹرانسپورٹیشن کے اہل ہوں گے ان کو اپنے معمول کے سکول بس اسٹاپ تک جانے کے لیے ایک میل تک چلنے کو کہا جا سکتا ہے۔ سکول سے ایک میل کے فاصلے کے اندر رہنے والے طلباء کو ٹرانسپورٹیشن کی سہولت حاصل نہیں۔

خصوصی پروگراموں میں داخل تمام طلباء کو ایکسپریس بس سروسز فراہم کی جائے گی۔ یہ سروس صرف ایکسپریس بس اسٹاپ تک جانے اور آنے کے لیے ہو گی۔ ایکسپریس بس اسٹاپ تک جانے/آنے کے لیے ٹرانسپورٹیشن فراہم کرنا والد یا والدہ کی ذمہ داری ہے۔ کئی صورتوں میں، یہ بس سٹاپ طالبعلم/طالبہ کی رہائش سے دو تا تین میل دور ہو سکتے ہیں۔

وائر لیس مواصلاتی آلات کو سکول بسوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ آلہ ڈرائیور کا دھیان بٹانے، تحفظ پر سمجھوتہ کرنے کا سبب نہ بنے، یا دیگر سکول بس کے قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی نہ کرے۔

بس پکڑنا

ریاستی قانون کا تقاضا ہے کہ بسیں اپنے نظام الاوقات کے مطابق، روزانہ کی بنیاد پر اسی روٹ پر چلیں۔ والد یا والدہ (والدین) یا ان کے قائم مقام افراد سے اپنے چھوٹے بچے (بچوں) کو بس اسٹاپ تک ساتھ لانے اور وہاں سے لے جانے کی درخواست کی جاتی ہے۔

طلباء کو درج ذیل کرنا چاہیے:

  •     وقت پر پہنچیں؛
  •     پک اپ کے مستقل وقت سے کم از کم پانچ سے 10 منٹ پہلے اپنے بس سٹاپ پر پہنچیں؛
  •     سڑک سے دور کھڑے ہوں۔ بس کا انتظار کرتے ہوئے سڑک کے سفر والے حصے پر کھڑے نہ ہوں؛
  •     اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کریں؛
  •     دوسروں کی املاک کا احترام کریں؛
  •     بس کے رک جانے تک انتظار کریں؛ پھر اگلے دروازے پر جائیں۔ چلتی ہوئی بس کے ساتھ نہ بھاگیں؛
  •     اپنی باری کے مطابق بس پر سوار ہوں؛ اور
  •     اپنے گھر سے قریب ترین بس اسٹاپ کا استعمال کریں۔ بس پکڑنے کے لیے کسی دوست کے گھر تک پیدل جانے کی وجہ سے اکثر کسی مقررہ اسٹاپ پر زیادہ بھیڑ ہو جاتی ہے۔

بس پر سوار ہونے والے طلباء کو چاہیے کہ:

  •     بس ڈرائیور اور/یا بس اٹینڈنٹ کی ہدایات پر عمل کریں؛
  •     فوری طور پر بیٹھ جائیں؛
  •     منہ آگے کی طرف کر کے بیٹھیں؛
  •     مساوی طور پر نشستوں کا اشتراک کریں؛
  •     خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں؛
  •     املاک کا احترام کریں؛
  •     جسم کے تمام اعضا کو بس کے اندر رکھیں؛
  •     نشستوں کے درمیان کے راستے کو خالی رکھیں؛ اور
  •     اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کیجیئے۔

درج ذیل کی اجازت نہيں ہے:

  •     آگ جلانا؛
  •     لڑائی جھگڑا؛
  •     تمباکو نوشی؛
  •     بد اخلاق زبان استعمال کرنا؛
  •     اُدھم مچانا،
  •     کھانا/پینا؛
  •     تھوکنا؛
  •     ناشائستہ اشارے استعمال کرنا؛
  •     توڑ پھوڑ کرنا؛
  •     بس سے اشیا پھینکنا؛
  •     شور برپا کرنا؛
  •     کانچ کی اشیا رکھنا؛
  •     بڑی اشیا لے کر بس میں سوار ہونا؛
  •     ویڈیو ٹیپنگ، ریکارڈنگ، یا تصویریں لینا جس کا نتیجہ ہراسانی یا دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے، ڈرائیور کے لیے خلل یا توجہ ہٹانا؛
  •     آلات کو چھیڑنا؛
  •     اسلحہ رکھنا؛
  •     منشیات یا دیگر منضبط مواد یا متعلقہ پیرافنیلیا کا استعمال، تصرف یا تقسیم؛
  •     گندگی پھیلانا؛
  •     دھمکیاں دینا؛
  •     دوسروں کو خطرے میں ڈالنا اور؛
  •     "ضابطۂ اخلاق" کی دیگر خلاف ورزیاں۔

بس سے اترتے ہوئے

طلباء کو درج ذیل کرنا چاہیے:

  •     بس مکمل طور پر رکنے تک اپنی نشست پر بیٹھے رہیں؛
  •     بس سے اپنی باری کے مطابق اتریں، اگلی نشستوں کے طلباء پہلے اتریں؛
  •     بس سے نکلنے کے فوراً بعد ارد گرد کے راستے محفوظ ہیں تو بس سٹاپ سے چلے جائیں؛
  •     بس کے اطراف بلا وجہ مت گھومیں؛
  •     اگر ضروری ہو تو، بس کے آگے اور سامنے سے کم از کم دس فٹ کی دوری سے سڑک پار کریں؛
  •     راستہ اس وقت تک نہ پار کریں جب تک بس ڈرائیور یہ اشارہ نہ دے کہ ایسا کرنا محفوظ ہے۔ چار یا اس سے زیادہ ٹریفک لین یا منقسم سڑک پار کرنا منع ہے۔

اگر دوپہر بارہ بجے کے بعد نظم و ضبط کا کوئی مسئلہ پیش آئے اور مسئلہ ایسا ہو کہ ڈرائیور کے خیال میں آگے بڑھنا غیر محفوظ ہو تو ڈرائیور نظم و ضبط کی فوری کاروائی اور/یا اعانت طلب کرنے کے لیے سکول واپس آ سکتے ہیں۔ بس ڈرائیوروں کو نظم و ضبط کی کوئی سی بھی خلاف ورزی کی اطلاع سکول کے پرنسپل/نامزد کردہ کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بسیں تبدیل کرنا

طلباء اپنی بس کے ذریعے سفر کے دوران اگر اپنے مستقل سٹاپ کی بجائے کسی اور سٹاپ پر اترنا چاہیئں تو انہیں والدین کی جانب سے تحریری درخواست دینا ضروری ہے۔ یہ تحریری درخواست سکول کے پرنسپل یا انکے نامزد کردہ کی منظوری کے ساتھ مشروط ہے۔ کسی طالبعلم/طالبہ کو متبادل اسٹاپ یا بس تبدیل کرنے کی منظوری دیئے جانے پر بس ڈرائیوروں کو اسکول کے دفتر سے اطلاع موصول ہونا ضروری ہے۔

دفتر برائے ٹرانسپورٹیشن کی منظوری کے بغیر بس اسٹاپ کے مقام اس کے راستوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

طے شدہ بسوں کے شیڈول میں سکول پرنسپل اور ٹرانسپورٹیشن سروسز کے دفتر کی اجازت کے بغیر تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

غیر قانونی مداخلت

سکول بس (سکول املاک) پر صرف مجاز افراد کو ہی سوار ہونے کی اجازت ہے۔ "کسی بھی شخص کے لیے خواہ طالب علم ہو یا نہ ہو، مجاز فرد کی جانب سے املاک خالی کر دینے کی ہدایت دینے کے بعد، سکول کی کسی بھی املاک میں داخل ہونا یا وہاں پر رہنا غیر قانونی ہو گا۔" (ورجینیا کوڈ 128-18.2)۔

سکول بس سے سفر کرنا ایک سہولت ہے٭

اگر طالبعلم/طالبہ کی رپورٹ پرنسپل کو کی جاتی ہے تو پرنسپل تادیبی کاروائی کا ذمہ دار ہو گا جس میں بس ٹرانسپورٹیشن کی رعایت سے محرومی شامل ہو سکتی ہے، جب تک کہ والد والدہ، بس ڈرائیور، پرنسپل، اور کچھ مثالوں میں ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کا نمائندہ، کسی ایسے حل پر پہنچیں جو مسئلے کو درست کرے۔ والد والدہ ان طلباء کو خود ٹرانسپورٹیشن دینے کے ذمہ دار ہوں گے جس سے سکول بس ٹرانسپورٹیشن کی سہولت لے لی گئی ہے۔

اگر آپ کے کوئی سوالات ہیں، تو براہ مہربانی، ضابطہ 4-431 "طلباء کے لیے ٹرانسپورٹیشن" ملاحظہ کیجیئے۔

دوسروں کو یا PWCS کی املاک کو نقصان پہنچانے کی زبانی یا تحریری دھمکیاں، جن کی منصوبہ بندی کی گئی ہو، یا سکول بس پر منصوبہ بندی کی گئی ہو، یا منصوبہ بندی کو سکول بس پر، سکول بس اسٹاپ پر یا سکول جاتے یا وہاں سے آتے ہوئے عملی صورت دینے کا ارادہ ہو، اس کا نتیجہ دیگر تادیبی کاروائی کے علاوہ ایک مخصوص وقت تک کے لیے یا سکول کے باقی دورانیے کے لیے ٹرانسپورٹیشن کی سہولت سے محرومی کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔

سکول بس پر ویڈیو آبزرویشن سسٹم کچھ بسوں پر ہونے والی سرگرمیاں ریکارڈ کرتا ہے۔ اپنے بچے کی ٹرانسپورٹیشن سے تعلق رکھنے والے مسائل میں مدد کے لیے براہ کرم اسکول کے پرنسپل یا دفتر برائے ٹرانسپورٹیشن سروسز سے بلا جھجک رابطہ کریں۔

*سکول بس پر سوار ہونا ایک رعایت ہے، ماسوائے بذریعہ قانون معذور طلباء کے لیے۔

قواعد و ضوابط

ممنوعہ مواد

پرنس ولیم کاؤنٹی پبلک سکولز کی طرف سے ممنوع کئے گئے نشہ آور مواد سے متعلق قواعد کا خلاصہ اس سیکشن میں بیان کیا گیا ہے۔ اس موضوع سے متعلق تمام معلومات کے لیے ضابطہ 1-735 ، "ممنوعہ مواد"، ملاحظہ کیجیئے۔

ورجینیا کوڈ § 277.08-22.1 کی تعمیل میں، سکول بورڈ اجازت دے گا، مگر لازمی نہیں کہ کسی طالبعلم/طالبہ کا اخراج کا تعین کیا جائے جو منضبط مواد، یا اس سے ملتا جلتا منضبط مواد، یا بھنگ لایا ہے جیسا ورجینیا کوڈ § 247-18.2 میں بیان کیا گیا ہے، سکول املاک یا سکول کی پیش کردہ سرگرمیاں میں۔ جو طلباء قانون کی خلاف ورزی کریں گے انہیں مقامی انتظامیہ عدالتی انصاف یا نوجوانوں کے کورٹ کے نظام میں مناسب کاروائی کیلیئے بھیجا جائے گا۔

تاہم، سکول بورڈ اور/یا سپرنٹنڈنٹ یا سپرنٹنڈنٹ کے نامزد کردہ (لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ، ڈائریکٹر برائےOSMAP، یا ایک OSMAP کا سماعتی افسر) کو اختیار ہو گا کہ مخصوص حالات کے حقائق کی بنیاد پر جب خاص صورت حال موجود ہو تو انضباطی کاروائی کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ مخصوص حالات میں درج ذیل شامل ہیں مگر ان تک محدود نہیں، ورجینیا کوڈ 277.06-22.1 (سی) میں طے کیا گیا ہے جیسا کہ ضابطہ 1-745، "طلباء کی طویل المدت معطلی" میں بیان کیا گیا ہے۔

ممنوعہ مواد اور پیرافیرنیلیا کی وہ فہرستPWCS جس کے تحت طالبعلم/طالبہ کو نکالا جا سکتا ہے اس فہرست سے بہت بڑی ہے جس کیلیئے قانون ممنوعہ مواد کے تحت لازمی اخراج کا حکم دیتا ہے۔ اگرچہ ممنوعہ مواد یا متعلقہ پیرافنیلیا قانون کے ذریعہ ممنوع قرار دیے گئے مواد کے درجے میں نہیں آتے ہیں تو کوئی طالبعلم/طالبہ اس وقت اخراج کا مستوجب نہیں ہو گا جب تک کہ وہ ممنوعہ مواد یا پیرافنیلیا رکھنے، استعمال کرنے، وصول کرنے یا وصول کرنے کی کوشش، خریدنے یا خریدنے کی کوشش کرنے، تقسیم کرنے یا تقسیم کی کوشش کرنے میں شامل ہو، الاّ یہ کہ سپرنٹنڈنٹ کے نامزد (لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ، ڈائریکٹر برائے OSMAP، یا OSMAP کے سماعتی افسر) یا سکول بورڈ کو یہ پتہ چلے کہ دیگر حالات ایک کمتر تادیبی کاروائی کا یا مخصوص صورتحال کے حقائق کی بنیاد پر سرے سے کوئی کاروائی کم کرنے، یا کوئی کاروائی نہیں کرنے کا جواز دیتے ہیں۔ کچھ صورتوں میں اس بارے میں ایک سوال ہو سکتا ہے کہ آیا منضبط مواد یا شے کو رکھنا، اس کا استعمال یا اس کی تقسیم خلاف ورزی ہے یا نہیں۔ اگر منضبط مواد یا متعلقہ اسباب کی نوعیت اور ظاہری ہئیت، اس کے مقصد اور اس کے طریقۂ استعمال یا ارادہ استعمال کو تادیبی کاروائی کے بارے میں فیصلے کرتے وقت زیر غور رکھا جائے گا۔

ممنوعہ مواد کی رپورٹ کرنے کی ذمہ داری - PWCS کے تمام ملازمین اور طلباء سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ پرنسپل، اسسٹنٹ پرنسپل، کسی کمیونٹی کے ریسورس افسر، سیکوریٹی حکام، استاد/استانی، یا سکول کے کسی دوسرے ملازم کو مطلع کریں فوری اگر ان کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی وجہ ہے کہ سکول میں، سکول املاک پر، سکول بسوں پر، بس سٹاپ پر، سکول جاتے یا واپسی پر یا کسی سکول کی متعلقہ سرگرمی میں ممنوعہ مواد یا اس جیسا موجود ہے۔ ایسے طلباء جن کو ایسی بات کا علم ہے مگر وہ ممنوعہ مواد یا متعلقہ پیرافیرنیلیا کی موجودگی یا متوقع موجودگی کی رپورٹ کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی تادیبی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پرنسپل یا پرنسپل کا نامزد کردہ طلباء اور سٹاف کے تحفظ اور بہبود کو یقین بنانے کیلیئے سکول ڈویژن کی پالیسی کے اندر اندر اس کی مناسبت سے فوری طور پر قدم اٹھانے پر عمل کریں گے۔ اس کاروائی میں پرنسپل کی مدد کیلیئے سکول ڈویژن اور مقامی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے وسائل دستیاب ہوں گے۔

ممنوعہ منضبط مواد کی خلاف ورزی کے نتائج - ممنوعہ منضبط مواد کی خلاف ورزی کے ارتکاب کرنے والے طالبعلم/طالبہ کے خلاف تادیبی کاروائی ہو گی۔ اس میں پانچ دن کی معطلی کے علاوہ پرنسپل یا اسسٹنٹ پرنسپل کے ساتھ غیر رسمی کانفرنس ہو سکتی ہے تاکہ واقعہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ غیر رسمی کانفرنس کے بعد، سکول انتظامیہ مناسب لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کانفرنس کریں گے، اور تعین کریں گے کہ اگر مزید انضباطی کاروائی کے لیے کو سفارش کی جانی چاہیے، جس میں کیس ضابطہ، 1-745، "طلباء کی طویل المدت معطلی یا اخراج"، ضابطہ 2-745، "معذور طلباء کا نظم و ضبط"، اور ضابطہ 1-747، "دفتر برائے سٹوڈنٹ منیجمنٹ و الٹرنیٹو پروگرامز (OSMAP)" کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ پرنسپلز یا ان کے نامزد، مواد کے غلط استعمال کے مرتکب ہونے والوں اور ان کے والدین کو ہائی سکول لیول پر نیو ہورائزن پروگرام میں رضاکارانہ طور پر شرکت کرنے کا بھی موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

مواد کے غلط استعمال کی وجہ سے معطلی کے ساتھ ساتھ، سکول کی تمام سرگرمیوں (ٹیموں، کلبز اور اسکول کی زیر اہتمام دیگر سبھی سرگرمیوں) میں کم از کم 30 تقویمی دنوں کے لیے شرکت سے فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔ الہ یہ کہ طالبعلم/طالبہ کے پاس سکول املاک پر، سکول بسوں پر یا سکول کے زیر اہتمام سرگرمی میں موجود رہنے کے لیے سکول کے اسٹاف کی تحریری اجازت ہو۔ ایسے طالبعلم/طالبہ جن کی طویل مدتی معطلی یا اخراج کے کیس کا فیصلہ ہونا باقی ہے (سوائے ان کیسوں کی سماعت کے)، انہیں سکول کی املاک، سکول بسوں یا سکول کے زیر سرگرمیوں میں شرکت سے منع کر دیا گیا ہے۔ چاہے سکول سے معطل کیا جائے یا نہیں، کوچ اور/یا سپانسر سکول انتظامیہ کی منظوری سے ممنوعہ مواد کے سلسلے میں ٹیم، کلب یا سرگرمی کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مدنظر طلباء کو سکول کی زیر اہتمام سرگرمیوں میں شرکت سے معطل کر سکتے ہیں۔ اس میں سکول احاطوں سے باہر اور تعلیمی دن کے علاوہ ہونے والی ممنوعہ مواد کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔ طالب علم 90 تقویمی دنوں کے لیے تادیبی نگرانی کے بھی مستوجب ہو سکتے ہیں، جس کے دوران پرنسپلز مواد کے بے جا استعمال کی روک تھام کیلئے عملے کو فالو اپ اقدامات کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

قواعد و ضوابط

ہتھیار اور دیگر خطرناک اشیا

PWCS کے ذریعہ ممنوع قرار دیئے گئے اسلحہ اور دیگر اشیاء پر نافذ المعل اصولوں کا خلاصہ اس حصے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس موضوع سے متعلق سبھی معلومات کے لیے ضابطہ -1 775 ، "اسلحہ اور دیگر ممنوعہ اشیاء"، سے رجوع کریں۔

سکول املاک یا سکول کی سرگرمیوں میں طلباء، سٹاف اور دیگر افراد کے تحفظ اور بہبود کو یقینی بنانے کیلیئے، اور سکول املاک کی حفاظت کیلیئے، کسی سکول املاک پر، سکول بسوں پر، سکول جاتے یا واپس آتے یا کسی سکول سے متعلق سرگرمی میں اس بات سے قطع نظر کہ سرگرمی کہاں واقع ہوئی، ہتھیار اور دیگر اشیاء منع ہیں۔ سکول املاک سے مراد ہے کوئی اصل املاک جو سکول بورڈ کی ملکیت ہو یا لیز پر ہو یا کوئی گاڑی جو ملکیت، لیز پر ہو یا سکول بورڈ کے طرف سے چلائی جائے۔ طلباء کو درج ذیل وجوہات کی بنا پر تادیبی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگر سکول املاک سے باہر ہتھیاروں کے جرائم، اگر سکول کے عمل میں مداخلت میں نتائج کے جرائم، سکول میں یا سکول کی سرگرمیوں میں جرم کی منصوبہ بندی، اگر جرم تب ہوا جب طالبعلم/طالبہ سکول حکام اور رسمی سرپرستی (loco parentis) کے تحت ہو، اگر جرم طلباء، سٹاف یا سکول املاک کے تحفظ اور بہبود کیلیئے خطرہ ہو، یا اگر جرم کسی دوسری صورت سے سکول سے متعلق ہو۔

مخصوص اسلحہ/آتشیں اسلحہ والے جرائم کے لیے لازمی - وفاق کا بندوق سے پاک سکول سے متعلق ایکٹ اور ورجینیا کے قانون کے مطابق، سکول کو کم سے کم ایک سال (365 دن) کے لیے کسی بھی ایسے طالبعلم/طالبہ کو سکول کی حاضری سے خارج کر دینا چاہیے جس کے پاس سکول کی املاک میں یا اسکول بس پر یا اسکول سے متعلقہ کسی بھی سرگرمی میں آتشیں اسلحہ، تخریبی آلہ، آتشیں اسلحہ والا گلو بند، آتشیں اسلحہ والا سائلنسر یا ہوائی بندوق کی موجودگی کا تعین ہوا ہو۔ تاہم، سکول بورڈ اور/یا سپرنٹنڈنٹ یا ان کے نامزد کردہ (لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ، ڈائریکٹر برائےOSMAP، یا ایک OSMAP کا سماعتی افسر) کو اختیار ہو گا کہ ایسے جرائم کے اخراج کی شرائط کو تبدیل کر سکیں، یا مخصوص حالات کے حقائق کی بنیاد پر جب خاص صورت حال موجود ہو تو انضباطی کاروائی کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ مخصوص حالات میں درج ذیل شامل ہیں مگر ان تک محدود نہیں، ورجینیا کوڈ § 277.06-22.1 (سی) میں طے کیا گیا ہے جیسا کہ ضابطہ 1-745، "طلباء کی طویل المدت معطلی" میں بیان کیا گیا ہے۔ جو طلباء قانون کی خلاف ورزی کریں گے انہیں مقامی انتظامیہ عدالتی انصاف یا نوجوانوں کے کورٹ کے نظام میں مناسب کاروائی کیلیئے بھیجا جائے گا۔

ہتھیاروں اور ممنوعہ مواد اور پیرافیرنیلیا کی وہ فہرست جس میں PWCS کے قوانین کے تحت، طالبعلم/طالبہ کو نکالا جا سکتا ہے، ہتھیاروں کی اس فہرست سے بہت بڑی ہے جس کیلیئے قانون لازمی اخراج کا حکم دیتا ہے۔ وہ اسلحہ قانون کے ذریعہ ممنوعہ اسلحوں کے درجے میں نہیں آنے پر بھی، سبھی اسلحے رکھنے، استعمال کرنے، حاصل کرنے یا حاصل کی کوشش کرنے، خریدنے یا خریدنے کی کوشش کرنے، تقسیم کرنے یا تقسیم کرنے کی کوشش کرنے پر طلباء کے لیے اخراج کی سفارش کی جا سکتی ہے، الّا یہ کہ سپرنٹنڈنٹ کے قائم مقام (پرنسپل لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کے تعاون سے، ڈائریکٹر برائے OSMAP یا OSMAP کا سماعتی افسر) کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خصوصی حالات کی وجہ کم شدت کی تادیبی کاروائی یا سرے سے ہی کاروائی نہیں کرنی چاہیئے۔ بعض معاملات میں کسی چیز کا قبضے میں ہونے یا اس کی تقسیم سے متعلق سوال کیا جا سکتا ہے کہ آیا یہ خلاف ورزی ہے یا نہیں۔ کچھ صورتوں میں اس بارے میں ایک سوال ہو سکتا ہے کہ آیا کسی شے کو رکھنا، اس کا استعمال یا اس کی تقسیم خلاف ورزی ہے یا نہیں۔ چیز کی قسم، اس کے مقاصد اور اسے کیسے استعمال کیا گیا اس بات کا تعین کریں گے جب تادیبی کاروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

ہتھیاروں اور ممنوعہ مواد کی رپورٹ کرنے کی ذمہ داری - PWCS کے تمام ملازمین اور طلباء سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر پرنسپل، اسسٹنٹ پرنسپل، کسی کمیونٹی کے ریسورس افسر، سیکوریٹی حکام، استاد/استانی، یا سکول کے کسی دوسرے ملازم کو فوری طور پر مطلع کریں اگر ان کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی وجہ ہے کہ سکول میں، سکول املاک پر، سکول بسوں پر، بس سٹاپ پر، سکول کی کسی متعلقہ سرگرمی میں ہتھیار یا ہتھیار جیسا لگنا موجود ہے۔ ایسے طلباء جن کو ایسی بات کا علم ہے مگر وہ ہتھیار کی موجودگی یا متوقع موجودگی کی رپورٹ کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی تادیبی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پرنسپل یا پرنسپل کا نامزد کردہ طلباء اور سٹاف کے تحفظ اور بہبود کو یقین بنانے کیلیئے سکول ڈویژن کی پالیسی کے اندر اندر اس کی مناسبت سے فوری طور پر قدم اٹھانے پر عمل کریں گے۔ اس کاروائی میں مدد کیلیئے سکول ڈویژن اور مقامی پولیس کے وسائل دستیاب ہوں گے۔ اگر کسی طالبعلم/طالبہ کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے پاس ایک ایسی شے ہے جسے "اسلحہ" خیال کیا جا سکتا ہے تو اس طالبعلم/طالبہ کو فوری طور پر انتظامیہ یا عملہ کے دوسرے ممبر کو اس کی اطلاع دینی چاہیے۔ اطلاع ملنے پر کاروائی شروع کرنے کے لیے اس بات کو مد نظر رکھا جائے گا کہ طالبعلم رضاکارانہ طور پر یہ معاملہ لے کر عملہ کے پاس آیا ہے۔

ہتھیار رکھنے سے متعلق خلاف ورزی کے نتائج- کوئی بھی طالبعلم/طالبہ جو ہتھیا یا دیگر ممنوعہ شے (اشیاء) رکھنے کے جرم کے الزم میں ملوث پایا جائے گا، وہ سکول پرنسپل یا اسسٹنٹ پرنسپل کے ساتھ غیر رسمی ملاقات کرے گا/گی۔ کانفرنس اور لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ جائزے کے بعد، اخراج یا دیگر تادیبی کاروائی کی سفارش کی جائے گی، جس میں کیس ضابطہ 1-745، " طلباء کی طویل المدت معطلی یا اخراج" اور ضابطہ 1-747، "دفتر برائے سٹوڈنٹ منیجمنٹ و الٹرنیٹو پروگرامز(OSMAP)" یا ضابطہ 2-745، "معذور طلباء کا نظم و ضبط"، میں طے کردہ اصولوں کے تحت عمل کیا جائے گا، جیسا مناسب ہو گا۔

نظم و ضبط کے ضابطے کا خلاصہ

PWCS غیر پسندیدہ طرزعمل کے روک تھام اور بحالی کے نقطۂ نظر کے فلسفے پر یقین رکھتا ہے جو ورجینیا محکمہ تعلیم کے ماڈل برائے سٹوڈنٹ کے طرزعمل کی پالیسی کے مثبت اور بچاؤ کے لیے رہنمائی اور معطلی کے متبادل کے مطابق ہے۔ اگر غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے نتیجے میں طلباء کے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو استاد/استانی، پرنسپل اور/ یا دیگر مناسب تعلیمی عملے کے ممبران گریجویٹڈ ریسپانس سسٹم کے ذریعے مناسب اصلاحی اقدام کا تعین کریں گے جو تدریسی، بحالی اور عمر کے لحاظ سے رسپانس استعمال کرتا ہے۔ جب مداخلتوں کے جواب میں طالبعلم/طالبہ کا طرز عمل غیر ذمہ دار ہوتا ہے اور تعدد، شدت اور مدت میں بڑھتا ہے تو ردعمل کا درجہ شدت میں بڑھ سکتا ہے۔

طالبعلم/طالبہ کے طرزعمل کی درج ذیل زمرے جیسا کہ ورجینیا محکمۂ تعلیم نے بیان کیے ہیں، اس بات کو سمجھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے کہ طرزعمل کے اثرات کو سمجھا جائے جو سکول کی تدریسی ماحول میں ہوتے ہیں اور ردعمل کی حوصلہ افزائی کی جائے جو سماجی-جذباتی تدریسی قابلیت کو فروغ دیتے ہیں۔

  •     وہ طرزعمل جو تعلیمی ترقی میں رکاوٹ ڈالے (BAP):
    یہ طرز عمل طالبعلم/طالبہ یا طلباء کی تعلیمی پیشرفت میں رکاوٹ ہے۔ وہ عام طور طالبعلم/طالبہ کی خود کو منظم کرنے یا خود آگاہی کی کمی کے بارے میں اشارے ہیں۔ کبھی کبھی، طالبعلم/طالبہ کو یہ سمجھنے میں مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے کہ طرز عمل کس طرح دوسروں کو کس طرح متاثر کرتا ہے لہذا معاشرتی بیداری کی تربیت کا اشارہ بھی مل سکتا ہے۔
  •     سکول کے معمولات سے متعلقہ طرز عمل (BSO):
    یہ طرز عمل سکول کے طریقۂ کار کے روزانہ کے کام میں مداخلت کرتے ہیں۔ ان طرزعمل کا مظاہرہ کرنے والے طلباء کو ہو سکتا ہے کہ خود کو منظم کرنے، خود آگاہی، یا سماجی بیداری کی مہارتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہو۔
  •     طرز عمل میں تعلق (RB):
    یہ طرز عمل دو یا زیادہ لوگوں کے درمیان منفی رشتہ پیدا کرتے ہیں مگر اس کا نتیجہ جسمانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ طرزعمل کا تعلق سکول کی پوری کمیونٹی پر اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ سکول کا ماحول عام طور پر یہ تاثر دیتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے کیسے پیش آتے ہیں۔ وہ طلباء جن کو طرزعمل کے تعلقات میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے کہ انہیں دیگر سماجی-جذباتی قابلیتوں میں بھی مشکل کا سامنا ہو۔
  •     تحفظ سے متعلق طرزعمل پیش کرتا ہے خدشات (BSC):
    یہ طرز عمل طلباء، سٹاف، اور سکول کے ملاقاتیوں کے لیے غیر محفوظ حالات پیدا کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس قسم کے طرزعمل کی بنیادی وجوہات کسی سماجی-جذباتی صلاحیتوں میں چھپی ہوں لہذا منتظم کو طالبعلم/طالبہ کے طرزعمل کے اس بنیاد محرک کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ سماجی بیداری اور فیصلہ سازی میں تربیت عام طور پر کسی طرزعمل میں ظاہر کرتے ہیں جو حفاظت سے متعلق خدشات پیدا کرتا ہے۔
  •     وہ طرزعمل جو خود کے لیے یا دوسروں کے لیے خطرناک ہے (BESO):
    یہ طرز عمل یا تو طالبعلم/طالبہ یا سکول کمیونٹی میں دوسروں کی صحت، تحفظ، اور فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ شدت کے اس درجے پر بڑھنے والے طرزعمل عام طور پر پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ فیصلہ سازی کی ناقص صلاحیت ظاہر کرتے ہیں، طلباء جو ان طرزعمل کا اظہار کرتے ہیں ان میں سماجی-جذباتی صلاحیتوں کی ترقیاتی کمی بھی ہو سکتی ہے۔

"ضابطۂ اخلاق" کے اصول و ضوابط طالبعلم/طالبہ کے طرزعمل کو سکول کی عمارتوں، سکول بسوں، سکول جانے اور وہاں سے آنے، اور PWCS کے زیر اہتمام کسی سرگرمی میں شرکت میں رہنمائی کے لئے ہیں۔ جیسا کہ "ضابطۂ اخلاق" میں بیان کیا گیا ہے، تادیبی کاروائی کے لیے جن وجوہات کو مد نظر رکھا جاتا ہے ان میں درج ذیل شامل ہیں، لیکن یہ انہیں تک محدود نہیں۔ ان طرزعمل کے نتائج انتظامی ردعمل کی صورت میں ہو سکتے ہیں جو درج ذیل جدول میں لیول 1 تا لیول 5B میں بیان کیے گئے ہیں۔

طالبعلم/طالبہ کے رویے کے زمرے

طرز عمل
زمرہ

طرز عمل کا بیان

ممکنہ انتظامی ردعمل
(انتظامی ردعمل لیول میں مختلف ہو سکتا ہے)

ردعمل کے ممکنہ درجات

زمرہ A

وہ طرزعمل جو تعلیمی ترقی میں رکاوٹ ڈالے (BAP)

(وہ طرزعمل جو طلباء کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ذیل میں درج ہیں مگر ان تک محدود نہیں)

ایلیمنٹری سکول:

  •     کمرہ جماعت میں باتیں کرنا اور بہت زیادہ شور
  •     کام نہ کرنا، نشست پر نہ بیٹھنا
  •     ایسی اشیا کا تصرف جو کلاس کی تعلیم میں خلل کی وجہ بنے
  •     ہال وے میں بہت زیادہ شور
  •     دوسری کلاسوں میں مداخلت
  •     نقل کرنا
  •     کلاس یا سکول سے غیر منظور شدہ حاضری

مڈل اور ہائی سکول

  •     کلاس میں تعلیم کے دوران مداخلت
  •     کلاس سے باہر تعلیم میں مداخلت
  •     تعلیمی بدیانتی
  •     کلاس کی تیاری کے لیے طویل ناکامی
  •     کلاس یا سکول سے غیر منظور شدہ غیر حاضری

لیول 1: کمرۂ جماعت کی معاونت، مداخلت، یا چھوٹے نتائج

لیول 2: معمولی نتائج میں تین دنوں تک کی زیادہ سے زیادہ معطلی

لیول 3: چار اور پانچ دنوں کی معطلی


درجہ I
درجہ II
درجہ III

زمرہ B

سکول کے معمولات سے متعلقہ طرز عمل (BSO)

(یہ طرز عمل جو سکول کے طریقۂ کار کے روزانہ کے کام میں مداخلت کریں ان میں درج ذیل شامل ہیں، لیکن ان تک محدود نہیں)

ایلیمنٹری، مڈل اور ہائی سکول:

  •     ایک سرکاری دستاویز کو تبدیل کرنا
  •     سکول املاک پر غیر مجاز افراد کو لانا/اجازت دینا
  •     بددیانتی/سٹاف کو غلط معلومات دینا
  •     تفویض کردہ کلاسوں یا سکول املاک پر نظم و ضبط کی کاروائی کے لیے حاضر ہونے میں ناکامی
  •     جوئے بازی
  •     اودھم مچانا
  •     طالبعلم/طالبہ کا نامناسب لباس
  •     کمیونیکیشن ڈیوائز کا غلط استعمال
  •     سکول کے الیکٹرانک سامان کا غیر مجاز استعمال
  •     ٹیکنالوجی/انٹرنیٹ کا نامناسب استعمال
  •     توڑ پھوڑ، گرافٹی یا سکول یا ذاتی املاک کو نقصان

لیول 1: کمرۂ جماعت کی معاونت، مداخلت، یا چھوٹے نتائج

لیول 2: معمولی نتائج میں تین دنوں تک کی زیادہ سے زیادہ معطلی

لیول 3: چار اور پانچ دنوں کی معطلی

لیول 4: چھ اور 10 دنوں کے درمیان معطلی

درجہ I
درجہ II
درجہ III

زمرہ C

طرز عمل میں تعلق (RB)

(ان طرز عمل دو یا زیادہ افراد کے درمیان منفی تعلق پیدا کرتے ہیں جس کا نتیجہ جسمانی نقصان نہیں ہوتا، اس میں درج ذیل شامل ہیں، لیکن ان تک محدود نہیں)

ایلیمنٹری، مڈل اور ہائی سکول

  •     غنڈہ گردی/سائبر غنڈہ گردی
  •     سٹاف کی درخواست پر جواب دینے میں ناکامی
  •     نامناسب جسمانی چھونا جو جنسی نوعیت کا ہو
  •     مواد یا لٹریچر شائع کرنا، تقسیم کرنا، مشتہر کرنا یا بانٹنا بشمول الیکٹرانک مواد
  •     براہ راست یا الیکٹرانک طریقے سے جنسی مجوزہ، تبصرے، تجاویز یا دیگر خیالات کہنا یا لکھنا
  •     جنسی ہراسانی یا بدتمیزی
  •     کسی دوسرے سے غیرمہذبانہ، غیر اخلاقی انداز میں بات کرنا
  •     چھیڑنا، طعنہ زنی کرنا، زبانی محاذ آرائی میں ملوث ہونا، زبانی طور پر لڑائی کو بھڑکانا
  •     بے ہودہ یا فحش زبان یا اشاروں کا استعمال (قسم کھانا، کوسنا، نفرت انگیز تقریر، گینگ کی علامات یا اشارے)
  •    اصل یا سمجھی ہوئی نسل، عقائد، رنگ، قومیت، شہریت/امیگریشن کی حیثیت، وزن، صنف، صنفی شناخت، صنفی اظہار، جنسی رجحان، یا معذوری کی بنیاد پر بدنام کرنا۔

لیول 1: کمرۂ جماعت کی معاونت، مداخلت، یا چھوٹے نتائج

لیول 2: معمولی نتائج میں تین دنوں تک کی زیادہ سے زیادہ معطلی

لیول 3: چار اور پانچ دنوں کی معطلی

لیول 4: چھ اور 10 دنوں کے درمیان معطلی

لیول 5A: 10 مسلسل دنوں تک معطلی، مگر 365 مسلسل دنوں سے کم، (OSMAP کی سماعت درکار ہے)

لیول 5B: اخراج کی سفارش (OSMAP کی سماعت درکار ہے)

درجہ II
درجہ III

 

طرز عمل
زمرہ

طرز عمل کا بیان

ممکنہ انتظامی ردعمل
( انتظامی ردعمل لیول میں مختلف ہو سکتا ہے)

انتظامی ردعمل لیول میں مختلف ہو سکتا ہے

زمرہ D

تحفظ سے متعلق طرزعمل کے خدشات (BSC)

(یہ طرز عمل میں سکول کے طلباء، سٹاف، اور ملاقاتیوں کے لیے غیر محفوظ صورت حال پیدا کرنا ہے جس میں درج ذیل شامل ہیں، لیکن ان تک محدود نہیں)

ایلیمنٹری، مڈل اور ہائی سکول:

  •    تصرف، استعمال، یا تقسیم
  •     جسمانی چوٹ کی کوئی دھمکی یا بم یا املاک یا عمارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش
  •     غنڈہ گردی/سائبر غنڈہ گردی: مداخلتوں کے بعد جاری
  •     بس: ڈرائیور کو پریشان کرنا، بس میں موجود دوسروں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنا
  •     منشیات: منشیات پیرافنیلیا، غیر نسخہ جاتی ادویات، یا اس جیسی لگنے والی ادویات کا تصرف
  •     لا پرواہی والے برتاؤ میں ملوث ہونا جو خود یا دوسروں کو چوٹ پہنچنے کا خطرہ پیدا کرے
  •     جسمانی اعضا کو بے نقاب کرنا: فحش یا غیر مہذب
  •     جان بوجھ کر فائر الارم چلانا
  •     آگ سے متعلق: ایسا سامان رکھنا جو آگ لگانے یا آگ لگنے کی وجہ بن سکتا ہے یا بہت زیادہ دھواں پیدا کر سکتا ہے
  •     ہراسانی یا دھمکانا، جس میں جنسی بد تمیزی اور ہراسانی شامل ہے
  •     بھڑکانا/سکول کے معمولات یا سٹاف اور/یا طلباء کے تحفظ میں کافی خلل پیدا کرنا
  •     اجازت کے بغیر سکول املاک چھوڑنا
  •     جنسی نوعیت کا جسمانی تعلق: جسمانی اعضا کو تھپکنا، چٹکی لینا، کپڑے کھینچنا
  •     جسمانی جنسی جارحیت اور/یا دوسرے کو جنسی سرگرمی میں ملوث کرنے پر مجبور کرنا
  •     ایک طالبعلم/طالبہ کو دھکیلنا، دھکا دینا، مارنا جس میں کوئی واضح چوٹ شامل نہ ہو
  •     رقم یا جائیداد چوری کرنا: جسمانی طاقت کے بغیر یا استعمال کرتے ہوئے یا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے
  •     ایک چیز پھینکنا جس کا ممکنہ وجہ خلل، چوٹ، یا املاک کو نقصان پہنچانا ہے
  •     تمباکو: تمباکو سے بنی اشیاء، الیکٹرانک سگریٹ، ویپنگ سامان کا تصرف/استعمال
  •     غیر قانونی مداخلت
  •     ہتھیار: کوئی ہتھیار رکھنا یا بیچنا (آتش گیر اسلحہ شامل نہیں)

لیول 1: کمرۂ جماعت کی معاونت، مداخلت، یا چھوٹے نتائج

لیول 2: معمولی نتائج میں تین دنوں تک کی زیادہ سے زیادہ معطلی

لیول 3: چار اور پانچ دنوں کی معطلی

لیول 4: چھ اور 10 دنوں کے درمیان معطلی

لیول 5A: 10 مسلسل دنوں تک معطلی، مگر 365 مسلسل دنوں سے کم، (OSMAP کی سماعت درکار ہے)

لیول 5B: اخراج کی سفارش (OSMAP کی سماعت درکار ہے)

درجہ II
درجہ III

زمرہ E

وہ طرزعمل جو خود کے لیے یا دوسروں کے لیے خطرناک ہے (BESO)

(ان طرز عمل یا تو طالبعلم/طالبہ یا سکول کمیونٹی میں دوسروں کی صحت، تحفظ، اور فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالتے ہیں ان میں درج ذیل شامل ہیں، لیکن ان تک محدود نہیں)

  •     حملہ: دوسرے فرد کو جسمانی چوٹ کی وجہ بننے کی نیت
  •     حملہ اور زدوکوب: دوسرے فرد کو جسمانی چوٹ کی وجہ بننا
  •     بم کی دھمکی: بم کی دھمکی دینا
  •     منشیات: تصرف/اس کے زیر اثر/استعمال/تقسیم (منضبط مواد، غیر قانونی منشیات، مصنوعی ہیلو چینجیز، یا غیر مجاز نسخہ جاتی ادویات)
  •     لڑائی/فسادات: طلباء یا دوسرے فرد کے درمیان جسمانی تشدد یا استعمال جس میں چوٹ شامل نہیں
  •     آگ: آگ لگانے کی کوشش، لگانے کی کوشش یا آگ لگانا
  •    گینگ سے متعلقہ: دھمکی آمیز یا خطرناک طرز عمل میں شامل
  •     نو وادر کی درگت بنانا
  •     جسمانی جنسی جارحیت اور/یا دوسرے کو جنسی سرگرمی میں ملوث کرنے پر مجبور کرنا
  •     ہتھیاروں یا اس جیسے لگنے والوں کا تصرف، تقسیم یا استعمال
  •     ہڑتالی سٹاف: سٹاف کے رکن کے خلاف طاقت کا استعمال جب کوئی چوٹ کی وجہ نہ بنے
  •     دھمکی دینا یا تشدد کو بھڑکانا، دوسرے طالبعلم/طالبہ یا سٹاف رکن کو چوٹ یا نقصان پہنچانا
  •     ہتھیار: آتش گیر مواد یا تباہ کن ڈیوائس کا تصرف
  •   ہتھیار: سکول افراد، طلباء یا دیگر کو دھمکی دینے یا زخمی کرنے کی کوشش کے لیے کسی ہتھیار کا استعمال

لیول 1: کمرۂ جماعت کی معاونت، مداخلت، یا چھوٹے نتائج

لیول 2: معمولی نتائج میں تین دنوں تک کی زیادہ سے زیادہ معطلی

لیول 3: چار اور پانچ دنوں کی معطلی

لیول 4: چھ اور 10 دنوں کے درمیان معطلی

لیول 5A: 10 مسلسل دنوں تک معطلی، مگر 365 مسلسل دنوں سے کم، (OSMAP کی سماعت درکار ہے)

لیول 5B: اخراج کی سفارش (OSMAP کی سماعت درکار ہے)

درجہ III

 

طالبعلم/طالبہ کے درجہ وار ردعمل کی مثالیں

درجہ I
سکول/کمرۂ جماعت کی مداخلتوں اور ردعمل کی مثالیں

  •     نصیحت کرنا
  •     تفویض کردہ کام
  •     جماعت کی ملاقات
  •     کانفرنس (انتظامیہ/والد یا والدہ)
  •     خلل انگیز رابطے یا تفریحی ڈیوائس کی ضبطگی
  •     تمباکو پر توجہ
  •     طرزعمل کی مثبت مداخلتیں اور اعانت (PBIS)
  •     ریفلکشن
  •     بحالی کے حلقے
  •     سکول کونسلنگ
  •     "ٹائم آؤٹ" کی صورتحال

درجہ II
انتظامی مداخلتوں اور جوابات کی مثالیں

  •     کلب/تنظیمیں/مہارتیں حاصل کرنے کی ورک شاپ
  •     حراست/سکول کے بعد کے پروگرام
  •     سکول کے اندر معطلی
  •     مقامی سکول کی آزمائشی مدت
  •     مصالحت
  •     نگہبانی
  •     نیو ہوریزن تھراپسٹ کے پاس ریفرل یا دوسرے سکول میں موجود معاونتی سٹاف
  •     ہفتے کے دن کی معطلی
  •     سکول-کمیونٹی خدمات کے پروجیکٹ
  •     سکول کی حدود سے باہر قلیل المدت معطلی
  •     چھوٹے گروپ میں کونسلنگ/بحالی کے لیے کانفرنس
  •     طالبعلم/طالبہ کا چیک ان/چیک آؤٹ

درجہ III
توسیعی معطلیاں اور جوابات کی مثالیں

  •     فعالی طرز عمل کی تشخیص کرنا اور طرز عمل کے مداخلتی منصوبہ
  •     OSMAP کا اضافی تادیبی کاروائی کے اقدامات (طویل المدت معطلی یا اخراج کے لیے سفارش)
  •     سکول کی طرف سے پیش کردہ سرگرمی میں شرکت سے انکار
  •     غیر روایتی تعلیمی داخلہ
  •     بے جا مداخلت کی اجازت نہیں کا حکم دینا
  •     سکول سے باہر معطلی(OSS)
  •     پولیس/عدالتی کاروائی
  •     مناسب کمیونٹی میں موجود ایجنسی، ذہنی صحت کی خدمات، منضبط مواد سے متعلق کونسلنگ کی خدمات کے لیے ریفر کرنا، وغیرہ
  •     بحالی

ان مداخلتوں اور جوابات کا مقصد مناسب اور متبادل طرز عمل کی تعلیم دینا ہے تاکہ طلباء محفوظ اور با عزت طرز عمل سیکھیں اور اس کا مظاہرہ کر سکیں۔ مذکورہ بالا مثالوں میں تمام شامل نہیں اور نہ ہی سب استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر کیس میں، سٹاف کو خصوصی ضروریات والے طلباء کی مدد کے لیے منصوبوں میں نظر ثانی پر غور کرنا چاہیے (مداخلت، چائلڈ سٹڈی، IEP یا 504 پر جواب)

سکول کانفرنس

جب بھی طلباء یا والدین کو یہ محسوس ہو کہ کسی فرد یا گروپ کے بہترین مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے، استاد/استانی، اسپانسر، کوچ، کونسلر یا سکول کے دیگر عملے کے ساتھ ایک کانفرنس کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ اگر طالب علم (طلباء) اور سکول کے عملے کے درمیان حسب معمول اتفاق رائے نہ ہو پائے تو پھر طالبعلم کو حق ہے کہ:

  •     پرنسپل یا نامزد اسٹنٹ پرنسپل کے ساتھ ایک ملاقات کا انتظام کرے تاکہ اس صورتحال یا فیصلوں پر گفتگو کی جائے جن پر طالبعلم/طالبہ (طلباء) کا نقطہ نظر مختلف ہے۔
  •     ابتدائی ملاقاتوں سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں والدین، طالبعلم/طالبہ اور پرنسپل کے درمیان کانفرنس کی درخواست کریں۔
  •     اپیل کا طریقہ کار ملاحظہ کریں اور جیسا کہ اسکول بورڈ کی پالیسی 731، "طالبعلم/طالبہ کے معاملات کی اپیل" میں بیان کیا گیا ہے۔

استاد/استانی کا طلباء کو کلاس سے نکالنا

استاد کی طرف سے کلاس سے طالبعلم/طالبہ کا اخراج سے متعلق پرنس ولیم کاؤنٹی سکول بورڈ کی پالیسی 702 کے مطابق "اساتذہ کا طلباء کو کلاس سے باہر نکالنا"، جیسا کہ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔

ورجینیا کوڈ کا سیکشن § 276.2-22.1 استاد/استانی کو ابتدائی اختیار دیتا ہے کہ وہ خلل انگیز طرز عمل کی وجہ سے طالبعلم/طالبہ کو جماعت سے نکال دیں۔ مزید برآں، ورجینیا ضابطہ خلل انگیز طرز عمل کی تعریف، "سکول بورڈ ضوابط کی خلاف ورزی کے طور پر کرتا ہے جو طالبعلم/طالبہ کے ایسے طرز عمل کا ذمہ دار ہے جو تدریسی ماحول میں خلل یا رکاوٹ ڈالتا ہے"

معطلی کے طریقۂ کار

سکول سے باہر معطلی پر نافذ المعل اصول کا خلاصہ اس سیکشن میں بیان کیا گیا ہے۔ پرنسپل یا معاون پرنسپل کسی طالبعلم/طالبہ کو غلط طرز عمل کی وجہ سے سکول سے معطل کر سکتے ہیں، جس میں‘‘ ضابطۂ اخلاق ’’ کی خلاف ورزیاں شامل ہیں لیکن یہ انہیں تک محدود نہیں ہے۔ براہ کرم قلیل المدت اور طویل المدت معطلیوں پر نافذ المعل اصولوں کے لیے ضابطہ 1-744 ، "طلباء کا قلیل المدت اخراج"، اور 1-745 "طلباء کی طویل المدت معطلی یا اخراج" سے رجوع کریں۔ خصوصی تعلیم والے طلباء کے لیے اخراج، ضابطہ 2-745 "معذور طلباء کا نظم و ضبط" کے مطابق ہو گا۔ جب بھی معطلی کا اطلاق ہو گا، پرنسپل/نامزد تمام جائز کوششیں کریں گے کہ والد یا والدہ (والدین) کو ہونے والی معطلی سے مطلع کرنے کیلیئے رابطہ کریں اور طالبعلم/طالبہ کے گھر واپس آنے سے متعلق مناسب انتظامات کریں۔

ورجینیا کوڈ 277.07-22.1  § یا 277.08-22.1  § میں بیان کے علاوہ، کسی طالبعلم/طالبہ کو پری سکول سے تیسرے گریڈ کے دوران تین تعلیمی دنوں سے زیادہ کیلیئے معطل نہیں کیا جائے گا یا سکول حاضری سے معطل نہیں کیا جائے گا الّا یہ کہ (i) جرم میں جسمانی نقصان یا دوسروں کو ممکنہ حد تک جسمانی نقصان کی دھمکی ہو یا (ii) سکول بورڈ یا سپرنٹنڈنٹ یا نامزد کو لگے کہ شدید حالات موجود ہیں، جس کا متعلقہ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ تعین کرے (چھ تا 10 دن) یاOSMAP (دس تعلیمی دنوں سے زیادہ)، بطور سپرنٹنڈنٹ کے نامزد کے۔ پری سکول سے گریڈ تین تک کے طالبعلم/طالبہ کو سکول سے معطل کیا جا سکتا ہے اگر سکول ڈویژن کو رپورٹ ملے کہ ورجینیا کوڈ 305.1-16.1 § کے فیصلے کی حکم عدولی ہے یا ورجینیا کوڈ 260-16.1 § کے ذیلی سیکشن میں فہرست جرم کیا گیا ہے۔

معطلیوں کو غیر منظور شدہ غیر حاضری مانا جاتا ہے۔ معطلی کے عرصے میں چھوٹ جانے والی اسائنمنٹس حاصل اور مکمل کرنا طالب علم کی ذمہ داری ہے۔ ان اسائنمنٹس کو سکول کے ذریعہ طے کردہ میعاد میں مکمل کرنا ضروری ہے۔ تاہم، پرنسپل کو دیگر اسائنمنٹس یا تلافی کے ایسے اختیارات فراہم کرنے کی آزادی ہے جو کسی مقررہ طالب علم کے رویے کو تبدیل کرنے میں زیادہ مؤثر ہوں گے۔ جن طلباء کو سکول سے معطل کیا جاتا ہے انہیں اپنی معطلی کے عرصے تک اسکول کی املاک (بشمول اسکول بسوں پر) اور سکول سے متعلقہ سرگرمیوں میں شریک ہونے سے روک دیا جاتا ہے اور بے جا مداخلت پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ الہ یہ کہ طالبعلم/طالبہ کے پاس سکول املاک پر، سکول بسوں پر یا سکول کے زیر اہتمام سرگرمی میں موجود رہنے کے لیے سکول کے اسٹاف کی تحریری اجازت ہو۔ ایسے طالبعلم/طالبہ جن کی طویل مدتی معطلی یا اخراج کے کیس کا فیصلہ ہونا باقی ہے (سوائے ان کیسوں کی سماعت کے)، انہیں سکول کی املاک، سکول بسوں یا سکول کے زیر سرگرمیوں میں شرکت سے منع کر دیا گیا ہے۔ سکول سے معطل ہونے والے طلباء کو مشق سمیت، سکول کی سبھی سرگرمیوں (ٹیموں، کلبز اور اسکول کے زیر اہتمام دیگر سبھی سرگرمیوں) میں شرکت سے بھی معطل کر دیا جائے گا۔ ان صورتوں میں جہاں والدین یا بالغ طالب علم معطلی کے وقت ہی پرنسپل کو اطلاع دیتے ہیں کہ اپیل کی جائے گی، طالب علم کو مقدمے کی سماعت اور حتمی فیصلہ سنانے تک سکول آنے کی اجازت دی جائے گی، سوائے اس صورت کے جب پرنسپل یہ خیال کریں کہ طالب علم کی موجودگی سے سکول میں افراد یا املاک کی صحت، سلامتی اور/یا بہبود کو رواں اور مسلسل خطرہ پیدا ہوتا ہے یا اس کی وجہ سے تعلیمی عمل میں خلل پڑتا ہے۔

طویل المدت معطلی - ضابطے کی سنگین خلاف ورزی کی صورت میں جس کی وجہ سے سکول کے 10 دنوں سے زیادہ یا 45 تقویمی دنوں سے کم کی معطلی ہو سکتی ہے، پرنسپل طالب علم کو پانچ تعلیمی دنوں کے لیے سکول سے معطل کریں گے اور طالبعلم/طالبہ و طالبعلم/طالبہ کے والد والدہ (سرپرستوں) کو مجوزہ کاروائی اور اس کی وجہ کی تحریری اطلاع فراہم کریں گے۔ ایک طویل المدت معطلی 45 تعلیمی دنوں سے بڑھ سکتی ہے مگر 364 تقویمی دنوں سے نہیں بڑھے گی اگر (i) جرم ورجینیا کوڈ §§ 277.08-22.1 یا 277.08-22.1 میں سے ایک میں بیان کیا گیا ہے یا شدید جسمانی چوٹ ملوث ہے؛ یا (ii) سکول بورڈ یا سپرنٹنڈنٹ یا نامزد کو پتہ چلتا ہے کہ سنگین صورتحال موجود ہے جیسا کہ ورجینیا ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن میں بیان کیا گیا ہے۔ ضابطہ 1-745 ، "طلباء کی طویل المدت معطلی یا اخراج"، 1-747 "دفتر برائے سٹوڈنٹ منیجمنٹ اور متبادل پروگرام (OSMAP)" میں بیان کردہ طریق کار کے مطابق OSMAP کے ذریعہ ایک سماعت کا اہتمام کیا جائے گا۔ آئندہ کوئی اپیل ضابطہ 1-731 ، "طالبعلم/طالبہ کے معاملات کی اپیل" اور ضابطہ، 6-745، "طویل المدت معطلیاں اور اخراج کی اپیلیں" اور ضابطہ 2-745، "معذور طلباء کا نظم و ضبط" کے مطابق ہو گی۔

قلیل المدت معطلی - ایسی صورت کہ پرنسپل یا پرنسپل کا نامزد کردہ طالبعلم/طالبہ کو 10 یا اس سے کم تعلیمی دنوں کیلیئے معطل کرے تو طالبعلم/طالبہ کو اس کے خلاف زبانی یا تحریری نوٹس دیا جائے گا اور اگر طالبعلم/طالبہ خلاف ورزی سے انکار کرے تو سکول حکام کو حقائق کی وضاحت دی جائے گی اور طالبعلم/طالبہ کو واقعے سے متعلق اس کے نقطۂ نظر کو پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ طالبعلم/طالبہ کی قلیل المدت معطلی کا طریقہ اور بروقت ہونے کا بیان ضابطہ 1-744، "طلباء کی قلیل المدت معطلی" میں موجود ہے۔

اخراج کے طریقۂ کار

اخراج، دوبارہ داخلہ، اور اخراج پر نافذ المعل اصول کا خلاصہ اس سیکشن میں بیان کیا گیا ہے۔ براہ کرم اس موضوع سے متعلق تمام معلومات کے لیے ضابطہ 1-745، "طلباء کی طویل المدت معطلی یا اخراج"، ضابطہ 5-745، "دوبارہ داخلہ اور اخراج/داخلے"، ضابطہ 6-745 "سکول بورڈ کے لیے طویل المدت معطلی اور اخراج کی اپیلیں" اور ضابطہ 1-747 "دفتر برائے سٹوڈنٹ منیجمنٹ اور متبادل پروگرامز (OSMAP)"، سے معلومات ملاحظہ کیجیئے۔ خصوصی تعلیمی خدمات حاصل کرنے والے طلباء کے اخراج سے متعلق معلومات کے لیے ضابطہ 2-745 ، "معذور طلباء کا نظم و ضبط" سے رجوع کریں۔

پرنس ولیئم کاؤنٹی سکول بورڈ مناسب وجہ کی بنیاد پر طلباء کو نکال سکتا ہے۔ طلباء کو اس صورت میں پرنس ولیم کاؤنٹی کے کسی سکول میں جانے کے حق سے منع کیا جا سکتا ہے جب:

  •     وہ طالبعلم/طالبہ دوسروں کی صحت، بہبود یا تحفظ کے لیے امکانی یا مسلسل خطرہ ہو؛ یا
  •     طالبعلم/طالبہ کا برتاؤ تعلیمی مشن یا سکول کے باقاعدہ عمل کے لیے خلل انگیز ہو؛ یا
  •     طالبعلم/طالبہ ایسے برتاؤ میں ملوث ہوا ہو جس سے سکول ڈویژن کی پالیسیوں اور ضوابط کی یا "ضابطۂ اخلاق" کی خلاف ورزی ہوتی ہو یا دوسرے ایسے برتاؤ میں ملوث ہوتا ہے جس سے سکول کے تحفظ اور سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوتا ہو یا بصورت دیگر جس کا رابطہ سکول سے ہو؛ یا
  •     طالبعلم/طالبہ نے جرائم کا ایک انبار حاصل کر لیا ہے جس کے لیے اخراج لازم ہو گیا ہے (صرف عمومی تعلیم والے طلباء)؛ یا
  •     دیگر حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبعلم/طالبہ کا اخراج مقامی سکول یا سکول ڈویژن کے بہترین مفاد میں ہے۔

ورجینیا کوڈ 277.07-22.1  § یا 277.08-22.1  § میں بیان کے علاوہ، کسی طالبعلم/طالبہ کو پری سکول سے تیسرے گریڈ کے دوران تین تعلیمی دنوں سے زیادہ کیلیئے معطل نہیں کیا جائے گا یا سکول حاضری سے معطل نہیں کیا جائے گا الّا یہ کہ (i) جرم میں جسمانی نقصان یا دوسروں کو ممکنہ حد تک جسمانی نقصان کی دھمکی ہو یا (ii) سکول بورڈ یا سپرنٹنڈنٹ یا نامزد کو لگے کہ شدید حالات موجود ہیں جیسا کہ ورجینیا ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن میں بیان کیا گیا ہے۔ پری سکول سے گریڈ تین تک کے طالبعلم/طالبہ کو سکول سے معطل کیا جا سکتا ہے اگر سکول ڈویژن کو رپورٹ ملے کہ ورجینیا کوڈ 305-16.1 § کے فیصلے کی حکم عدولی ہے یا ورجینیا کوڈ 260-16.1 § کے ذیلی سیکشن میں فہرست جرم کیا گیا ہے۔

سکول املاک پر یا اس سے باہر پیش آنے والا کسی طالبعلم/طالبہ کا کوئی ایسا برتاؤ جس سے طلباء یا عملہ کے تحفظ یا سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوتا ہو، جس کے نتیجے میں سکول کے عمل میں ٹھوس خلل پڑتا ہو، جس کا منصوبہ سکول میں یا سکول کی سرگرمیوں میں بنایا گیا ہو، جو اس وقت پیش آئے جب طالب علم والدین کی غیر موجودگی میں سکول کے اختیار میں ہو یا بصورت دیگر جس کا ربط سکول سے ہو، معطلی کے اسباب ہو سکتے ہیں۔

طالبعلم/طالبہ کے اخراج کی سفارش درج ذیل کی وجہ سے کی جا سکتی ہے۔

  •     ضابطہ 1-735، "ممنوعہ مواد" کے تحت ممنوعہ اشیا رکھنا، استعمال اور تقسیم کرنا منع ہے؛
  •     ہتھیار کا تصرف، جیسا کہ ضابطہ 1-775 ، "اسلحہ اور دیگر ممنوعہ اشیاء" میں بیان کیا گیا ہے؛
  •     سکول عملہ کے ممبر پر جسمانی حملہ، جیسا کہ ضابطہ 1-745، "طلباء کا طویل المدت معطلی یا اخراج" میں بیان کیا گیا ہے، اور
  •     گروہی حملے، جیسا کہ ضابطہ 1-745 ، "طلباء کی طویل المدت معطلی یا اخراج" میں بیان کیا گیا ہے۔

اپیل کا طریقۂ کار

سکول کی بنیاد پر انتظامیہ کا ایک مقصد سکول لیول پر انتظامیہ سطح پر مسائل کو حل کرنا ہے۔ اس حصے میں درج معلومات میں اپیل کے طریق کار کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ ضابطہ 1-731 ، "طالبعلم/طالبہ کے معاملات کی اپیل"، اس موضوع کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتا ہے۔

اپیل کا طریقۂ کار اور بروقت ہونے کا خلاصہ

تعلیمی اپیلیں - گریڈ میں داخلہ؛ جماعت کے کام؛ گریڈ اور/یا تفویض، امتحانات اور امتحانات کے گریڈ؛ ترقی/یاد رکھنا؛ آنرز رولز؛ اور مخصوص جگہ کے پروگراموں میں داخلہ۔

  •     پہلی اپیل - کاروائی کی اطلاع کے تین دنوں کے اندر اندر پرنسپل (یا پرنسپل کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی جو سفارشات دے) کو تحریری اپیل، اپیل کی وجہ بتاتے ہوئے اور پھر امداد کی کوشش کی جائے گی۔ پرنسپل یا کمیٹی پانچ تعلیمی دنوں کے اندر اندر تحریری طور پر جواب دے گی یا اگر ممکن ہوا تو جلد از جلد۔
  •     حتمی اپیل - پرنسپل کے فیصلے کے اطلاع نامے کے تین کاروباری دنوں کے اندر اندر مناسب لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ یا اس کے نامزد کو تحریری اپیل۔ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ پانچ کاروباری دنوں کے اندر اندر تحریری طور پر جواب دے گی یا اگر ممکن ہوا تو جلد از جلد۔

سرگرمیوں کی اپیلیں - کھیلوں کی اور تعلیمی اہلیت؛ کلبوں اور تنظیموں میں رکنیت۔

  •     پہلی اپیل - کاروائی کی اطلاع کے تین دنوں کے اندر اندر پرنسپل کو تحریری اپیل، اپیل کی وجہ بتاتے ہوئے اور پھر مدد کی کوشش کی جائے گی۔ پرنسپل پانچ تعلیمی دنوں کے اندر اندر تحریری طور پر جواب دیں گے یا اگر ممکن ہوا تو جلد از جلد۔
  •     حتمی اپیل - پرنسپل کے فیصلے کے اطلاع نامے تین کاروباری دنوں کے اندر اندر سپروائزر برائے ایکٹیویٹیز، یا نامزد کو تحریری اپیل۔ سپروائزر پانچ کاروباری دنوں کے اندر اندر تحریری طور پر جواب دیں گے یا اگر ممکن ہوا تو جلد از جلد۔

گریجویشن کی اپیلیں - ان اپیلوں میں وقت کی اہمیت کی وجہ سے طریقۂ کار اور ٹائم لائن کو تیز ہونا چاہیئے۔

  •     پہلی اپیل - پرنسپل کے ساتھ غیر رسمی کانفرنس۔
  •     حتمی اپیل - مناسب لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ یا نامزد کو تحریری اپیل۔

منتقلی کی اپیلیں - طریقۂ کار اور ٹائم لائن کو لازمی طور پر ضابطہ 1-721 "طالبعلم/طالبہ کا تبادلہ - کنڈرگارٹن/ایلیمنٹری/مڈل سکول" اور ضابطہ 2-721، "طالبعلم/طالبہ کا تبادلہ - ہائی سکول" میں بیان کیے گئے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیئے۔

کنڈرگارٹن/ایلیمنٹری سکول اپیلیں:

  •     حتمی اپیل – دفتر برائے ڈائریکٹر سٹوڈنٹس سروسز کے ساتھ مشاورت سے سپروائزر برائے ایلیمنٹری کونسلنگ اور متعلقہ سروسز ہر کیس کا جائزہ لیں گے اور، اپیل کو منتقل کرنے کی درخواست کو منظور کریں گے یا مسترد کریں گے۔ یہ فیصلہ حتمی ہے۔

مڈل/ہائی سکول اپیلیں:

  •     حتمی اپیل – دفتر برائے ڈائریکٹر سٹوڈنٹس سروسز کے ساتھ مشاورت سے سپروائزر برائے سیکنڈری کونسلنگ اور طالبعلم/طالبہ سروسز ہر کیس کا جائزہ لیں گے اور، اپیل کو منتقل کرنے کی درخواست کو منظور کریں گے یا مسترد کریں گے۔ یہ فیصلہ حتمی ہے۔

امتیازی سلوک یا ہراسانی کے طالبعلم/طالبہ کی شکایت میں ملوث فیصلے کی اپیل

  •     جو طلباء ضابطہ 1-738، "طالبعلم/طالبہ کی امتیازی سلوک یا ہراسانی کی شکایت درج کرانے کے طریقہ کار" کے تحت شکایت درج کرتے ہیں، وہ اس ضابطے کے تحت اپیل اور ٹائم لائن پر عمل کریں گے۔
  •     پہلی اور حتمی اپیل - پرنسپل کے تعین کے پانچ تعلیمی دنوں کے اندر اندر لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کے سامنے تحریری شکایت درج کرائی جائے۔

غیر روایتی تعلیمی پروگرام (خصوصی تعلیم کو چھوڑ کر) میں داخلہ/مخصوص سکول کو رپورٹ کرنے والے الزامات کیلیئے تقرری کی اپیل
غیر روایتی تعلیمی پروگرام میں سکول کا ریفرل:

  •     پہلی اپیل - پرنسپل یا اس کے نامزد کردہ کے فیصلے کے تین تعلیمی دنوں کے اندر اندر، طالبعلم/طالبہ OSMAP سماعت افسر کے پاس سماعت کے لیے OSMAP میں ایک تحریری درخواست جمع کروا سکتا ہے۔
  •     آخری اپیل - تحریری اپیل سکول بورڈ کو OSMAP فیصلے کے خط کی تاریخ کے 10 تقویمی دنوں کے اندر اندر OSMAP کے دفتر کے ذریعے جمع ہو جانی چاہیے۔ سکول بورڈ درخواست اور OSMAP سماعت کے ریکارڈ کا جنتا جلدی ممکن ہو سکا جائزہ لے گا۔ سکول بورڈ کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

والد یا والدہ کی غیر روایتی تعلیمی پروگرام میں داخلے سے انکار کی اپیل:
اپیل - اپیل کی تحریری درخواست متعلقہ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو انکار کے فیصلے کی رسید کے تین تعلیمی دنوں کے اندر اندر جمع کرا دینی چاہیے۔ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

مخصوص مجرمانہ یا دیگر جرائم کے لیے کی دوبارہ تفویض/داخلہ جو ورجینیا کوڈ §§ 209.1:2-22.1  یا  277.2:1-22.1  کے تحت ہے:
آخری اپیل - اگر طالبعلم/طالبہ، والد یا والدہ، یا سرپرست OSMAP سماعت کے نتائج سے مطمئن نہ ہوں تو طالبعلم/طالبہ، والد یا والدہ یا سرپرست OSMAP کے فیصلے کے خلاف سکول بورڈ کو اپیل کر سکتے ہیں۔ ایسی اپیل OSMAP فیصلے کے خط کی تاریخ کے 10 تقویمی دنوں کے اندر اندر OSMAP کے دفتر کے ذریعے جمع ہو جانی چاہیئے۔ سکول بورڈ درخواست اور OSMAP سماعت کے ریکارڈ کا جنتا جلدی ممکن ہو سکا جائزہ لے گا۔ سکول بورڈ کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

طویل المدت معطلی یا اخراج کے بعد سکول میں واپس آنے پر OSMAP کے ذریعے داخلہ:
آخری اپیل - اگر ایک طالبعلم/طالبہ کی طویل المدتی معطلی یا اخراج کی سفارش کی جائے، تو ضابطہ 1-745، "طلباء کی طویل المدتی معطلی یا اخراج" اور ضابطہ 6-745،"سکول بورڈ کو طویل المدت معطلی اور اخراج کی اپیلیں" لاگو ہوں گی۔ طویل المدتی معطلی اور اخراج کے دوران یا بعد میں، ایک طالبعلم/طالبہ کو روایتی تعلیمی پروگرام میں حاضر ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

طویل المدت معطلی کی اپیلیں: : ضابطہ 1-744، "طلباء کی قلیل المدت معطلیاں" ملاحظہ کریں۔

     قلیل المدت معطلی کے فیصلے کے خلاف اپیل (ایک تا پانچ تعلیمی دن)
    •     جن طلباء کی قلیل المدت معطلی زیر التوا ہے جو اپنی اپیل کے التوا کے دوران سکول حاضر ہو سکتے ہیں تاوقتیکہ ان کی موجودگی تحفظ کے لیے خطرہ نہ ہو یا ان کی موجودگی مسلسل خلل اندازی کا باعث نہ بنے۔
    •     سکول لیول کے خلاف اپیل: طالبعلم/طالبہ اور/یا والد والدہ (والدین) معطلی کے نوٹس ملنے کے تین تعلیمی دنوں کے اندر اندر پرنسپل کو تحریری اپیل جمع کرائیں گے۔ تحریری اپیل ملنے کے پانچ تعلیمی دنوں کے اندر اندر، والد یا والدہ/ (والدین) کو پرنسپل کے فیصلے کی حیثیت سے تحریری طور پر مطلع کیا جائے گا۔
    •     لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو اپیل: اگر پرنسپل کے فیصلے کے خلاف اپیل کی جاتی ہے، والد یا والدہ (سرپرستان) کو دیئے گئے پرنسپل کے فیصلے کے اطلاع نامے کے تین دن کے اندر اندر فیصلے کے خلاف اپیل کی تحریری درخواست متعلقہ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو موصول ہو جانی چاہیئے۔ اپیل میں لازمی طور پر طالبعلم/طالبہ کا واقعہ اور معطلی ناجائز ہونے پر یقین کرنے کی وجوہات موجود ہونی چاہیئے۔ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کے فیصلے کا تحریری نوٹیفیکیشن والد یا والدہ (والدین) کو پرنسپل کے فیصلے کی تحریری اپیل کی رسید کے پانچ کاروباری دنوں کے اندر اندر فراہم کی جائے گی۔ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔
     قلیل المدت معطلی کے فیصلے کے  خلاف اپیل (چھ تا 10 تعلیمی دن):
    •     پرنسپل (یا نامزد کردہ) کا چھ تا 10 تعلیمی دنوں کی معطلی کے فیصلے کا نفاذ خودبخود متعلقہ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو اپیل کا حق دیتا ہے اور والد یا والدہ (والدین) کو کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ پرنسپل (یا نامزد کردہ) کے اقدام اور طالبعلم/طالبہ کے طرز عمل کا جائزہ لیں گے اور پرنسپل کی غیر رسمی کانفرنس کے بعد اور اپیل پر فیصلہ کرنے سے پہلے پرنسپل (یا نامزد کردہ) سے مشورہ کریں گے۔

طویل المدت معطلی کی اپیلیں: ضابطہ 6-745 "سکول بورڈ کو طویل المدت معطلی اور اخراج کی اپیلیں" ملاحظہ کریں۔

  •     والد یا والدہ (والدین) یا طالبعلم/طالبہ OSMAP کے سماعتی افسر کا طالبعلم/طالبہ کو 10 دن سے زائد معطل کرنے، اور/یا طالبعلم/طالبہ کو متبادل تعلیمی داخلہ کے لیے تفویض کرنے کے فیصلے کے خلاف سکول بورڈ کی تین رکنی نظم و ضبط کی کمیٹی کو اپیل کر سکتے ہیں۔ کسی دوسرے داخلے سے متعلق کے OSMAP کے فیصلے یا طالبعلم/طالبہ کو مہیا کی جانے والی تعلیمی خدمات جو طالبعلم/طالبہ کو اس کی معطلی کے دوران دی گئی ہیں، حتمی ہیں اور ان کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔ OSMAP کے فیصلے کے خلاف سکول بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی (SBDC) کو کی جانے والی اپیل کو OSMAP کے فیصلے کے خط کی تاریخ کے 10 تقویمی دنوں کے اندر اندر مل جانی چاہیئے۔ SBDC کو OSMAP کے سماعتی افسر کے فیصلے کی تحریری اپیل کا جائزہ بند سیشن میں لے گا اور اپیل کی درخواست جمع کروانے کے 30 تقویمی دونوں کے اندر اندر اپیل کا فیصلہ کرے گا۔ سکول بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی کے بند اجلاس کے دوران سکول سٹاف، OSMAP سٹاف، طالبعلم/طالبہ، والد یا والدہ (والدین) یا طالبعلم/طالبہ یا والد یا والدہ (والدین) کا کوئی نمائندہ موجود نہیں ہو گا۔ SBDC صرف OSMAP سماعت کے دوران پیش کیے گئے ثبوتوں پر غور کرے گا ماسوائے اپیل کے خط کے جو SBDC کو مہیا کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں کہ اپیل میں ایسے خدشات یا حقائق اٹھائے جاتے ہیں جو OSMAP ہیرنگ میں نہیں اٹھائے گئے تو OSMAP سماعتی افسر ایک خط یا دستاویز پیش کر سکتا ہے جس میں صرف نئے مسائل یا حقائق پر بات کی گئی ہو اور والد یا والدہ (والدین)/طالبعلم/طالبہ کو ایک نقل فراہم کی جائے گی۔ SBDC کے پاس اختیار ہے کہ وہ طریقے کے مسائل صرف اور/یا متبادل داخلے کی دستیابی یا موجودگی یا تعلیمی خدمات سے متعلق OSMAP سٹاف سے مزید معلومات کی درخواست کر سکتا ہے۔ SBDC کسی دوسری دستاویز یا ثبوت پر غور نہیں کرے گا۔ اگر SBDC معذور طالبعلم/طالبہ کی طویل المدت معطلی برقرار رکھتا ہے تو ایک انفرادی تعلیمی پروگرام (IEP) کی ٹیم مناسب تعلیمی خدمات کے تسلسل کا تعین کرنے کیلیئے ملاقات کرے گی۔
  •     اپیل پر، SBDC انکار کو برقرار رکھ سکتا ہے یا OSMAP سماعتی افسر کے فیصلے میں ترمیم کر سکتا ہے یا دیگر تادیبی کاروائی بشمول اخراج کا تعین کر سکتا ہے۔ SBDC کا فیصلہ حتمی ہو گا ماسوائے کہ فیصلے پر اتفاق رائے نہ ہو، جس صورت میں طالبعلم/طالبہ کمیٹی کے فیصلے کے سات کاروباری دنوں کے اندر اندر، OSMAP کو تحریری طور پر مطلع کر سکتے ہیں کہ وہ SBDC کے فیصلے کے خلاف مکمل سکول بورڈ میں اپیل کر سکتے ہیں، جو مکمل طور پر انتظامی ریکارڈ کی بنیاد پر اپیل کا جائزہ لے گی جو SBDC کو پیش کیا جائے گا اور اپیل کی وصولی کے 30 تقویمی دنوں کے اندر اندر فیصلہ دے گی۔
  •     ایسی صورت میں کہ SBDC تعین کرتی ہے کہ اخراج کا فیصلہ درست ہے، طالبعلم/طالبہ کو OSMAP کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ سکول بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی کے سامنے اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے جیسا کہ اس ضابطہ ، "سکول بورڈ کو طویل المدت معطلی اور اخراج کی اپیلیں" میں اخراج کے طریقہ کار کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ اس صورت میں کہ طالبعلم/طالبہ سماعت کی درخواست نہ کرے یا درخواست کرنے کے بعد سکول بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہو تو سکول بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی تحریری ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ سنائے گی۔

اﺧراج کی اپیلیں: ضابطہ 6-745 "سکول بورڈ کو طویل المدت معطلی اور اخراج کی اپیلیں" ملاحظہ کریں۔
اگر OSMAP طالبعلم/طالبہ کے اخراج کی سفارش کرتا ہے تو والد یا والدہ (والدین) اور طالبعلم/طالبہ SBDC کو OSMAP کے سماعتی افسر کی تادیبی کاروائی کی سفارش کی اپیل کو کر سکتے ہیں۔ OSMAP کا کوئی فیصلہ کہ طالبعلم/طالبہ کو دوبارہ داخلے پر متبادل تعلیمی پروگرام میں رکھا جائے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، OSMAP کا کوئی دوسرا فیصلہ حتمی ہو گا اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔ SBDC کو پیش کی جانے والی سماعت کی تحریری درخواست OSMAP کو فیصلے کے خط کی تاریخ کے 10 تقویمی دنوں کے اندر اندر وصول ہو جانی چاہیئے۔

دوبارہ داخلہ - وہ طلباء جو پہلے بھی پرنس ولیئم کاؤنٹی پبلک سکولز سے نکالے جا چکے ہیں، ان کے سکول میں دوبارہ داخلہ کا طریقہ، ٹائم لائن اور دوبارہ داخلے کی اپیل کا طریقہ ضابطہ 5-745 "دوبارہ داخلہ اور اخراج/داخلہ" میں بیان کیے گئے ہیں۔ جن کیسوں پر اپیل کی جاتی ہے، بورڈ ایک بند اجلاس میں ریکارڈ کا جائزہ لے گا اور کھلے سیشن میں دوبارہ داخلے کے فیصلے پر ووٹ کرے گا۔ سکول بورڈ OSMAP کو دوبارہ داخلے کیلیئے جمع کروائے گئے دستاویزات کو ہی زیر غور لائے گا۔ اپیل کے خط کے علاوہ کوئی اضافی دستاویزات غور کرنے کیلیئے جمع نہیں کروائی جائیں گی۔ طالبعلم/طالبہ اور والد یا والدہ (والدین) کو سکول بورڈ کے فیصلے سے تحریر طور پر مطلع کیا جائے گا۔

سکول سے اخراج - جن طلباء کو دوسرے سکول ڈویژن یا نجی سکول کے ذریعہ سکول میں حاضری سے خارج کیا گیا یا معطل کیا گیا ہے اور جو پرنس ولیم کاؤنٹی پبلک سکولز میں داخلے کی درخواست کر رہے ہیں ان کے اپیل کا طریقۂ کار ضابطہ 5-745 ، "دوبارہ داخلہ اور اخراج/داخلے" میں مذکور ہیں۔ جن کیسوں پر اپیل کی جاتی ہے، بورڈ ایک بند اجلاس میں OSMAP کے داخلے کی سماعت میں زیر غور دستاویزات اور والد والدہ کی اپیل کے خط کا جائزہ لے گا اور کھلے سیشن میں اخراج کی سفارش پر ووٹ کرے گا۔ اخراج یا داخلے سے دستبرداری کی صورت میں سکول بورڈ 30 دنوں کے اندر اندر طالبعلم/طالبہ اور والد یا والدہ (والدین) کو تحریری طور پر مطلع کرے گا، اور 30 دنوں سے زیادہ کی معطلی کی صورت میں 15 دنوں کے اندر اندر۔ سکول بورڈ نکالے گئے طالبعلم/طالبہ کو غیر روایتی تعلیمی پروگرام میں جانے کا تقاضا کر سکتا ہے جو کہ کسی بیس سکول سے کسی اخراج کی مدت کیلیئے سکول بورڈ نے مہیا کی ہو۔

انضباطی اقدامات میں تبدیلی کا اختیار Actions - تمام انضباطی اپیلوں کے طریقۂ کار کے ہر لیول پر اپیل کو منظور یا مسترد کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ نتائج (اصلاحی اقدامات) کو بڑھایا، کم کیا یا اسی حالت میں رہنے دیا جا سکتا ہے۔ اس اپیل کی صورت میں کہ سکول بورڈ طویل المدت معطلی کو برقرار رکھنے کا تعین کرے، OSMAP طالبعلم/طالبہ سکول بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی کے سامنے اپیل کرنے کے حق سے مطلع کرے گا۔ اس صورت میں کہ طالبعلم/طالبہ سماعت کی درخواست نہ کرے یا درخواست کرنے کے بعد سکول بورڈ کی نظم و ضبط کی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہو تو سکول بورڈ تحریری ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ سنائے گا۔ اس صورت میں مکمل سکول بورڈ کمیٹی ایک فیصلے پر متفق نہ ہو تو طالبعلم/طالبہ سکول بورڈ کو تحریری اپیل جمع کروا سکتا/سکتی ہے۔

 

جنسی ہراسانی

طلباء کی جنسی ہراسانی ممنوع ہے

جنسی ہراسانی بشمول صنفی شناخت یا جنسی بنیاد پر غیر قانونی ہے اور سکول میں یا سکول سے متعلقہ سرگرمیوں میں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ (نسل، رنگ، قومی تشخص، حمل، مذہب یا معذوری کی وجہ سے ہونے والی ہراسانی بھی غیر قانونی ممنوعہ برتاؤ ہے)۔ درج ذیل سوالات اور جوابات سے طلباء کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ جنسی ہراسانی کیا ہے اور انہیں اس سے بچانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

  1. سوال: جنسی ہراسانی کیا ہے؟
    جواب: جنسی ہراسانی کسی فرد کی جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ایک غیر قانونی شکل ہے چاہے ہراساں کرنے والے کا تعلق اسی جنس سے ہو۔ یہ اس وقت واقع ہوتی ہے جب کسی طالبعلم/طالبہ کے ساتھ ان کے جنس کی وجہ سے غیر منصفانہ سلوک ہو، یا جب ایک طالبعلم/طالبہ کو کسی دوسرے فرد (طالبعلم/طالبہ یا بالغ) کے الفاظ یا حرکتوں کی وجہ سے چوٹ پہنچے یا تکلیف محسوس ہو۔ الفاظ (زبانی یا تحریری)، کاروائیاں یا جسمانی روابط کو جنسی ہراسانی سمجھا جا سکتا ہے اگر ان کا تعلق کسی بھی طریقے سے فرد کی جنس سے ہو اور اگر انہیں طالب علم غیر مطلوب یا نقصان دہ خیال کرے اور اگر وہ معاندانہ یا جارحانہ تدریسی ماحول پیدا کرے۔

  2. سوال: مجھے کیسے معلوم ہو کہ مجھے جنسی طور ہر ہراساں کیا گیا ہے؟
    جواب: کبھی کبھی یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ آیا آپ کو جنسی، صنفی شناخت یا جنسی بنیاد کے لحاظ سے ہراساں کیا گیا ہے۔ اگر آپ کو آپ کی جنس، صنفی شناخت یا جنسی بنیاد کی وجہ سے نشانہ بنایا جائے، دوسروں سے الگ کر دیا جائے، چھیڑا جائے، پریشان کیا جائے یا کسی دوسرے طریقے سے نقصان پہنچایا جائے، تو یہ جنسی ہراسانی ہو سکتی ہے۔ جنسی ہراسانی میں ایک غیر اخلاقی مذاق جیسا معمولی عمل شامل ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو تکلیف محسوس ہو یا کسی کا آپ کو غیر مطلوبہ مقام یا وقت پر چھونے جیسی سنگین شکل شامل ہو سکتی ہے۔ یہ صرف ایک ہی دفعہ ہو سکتا ہے یا اسے دہرایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ صنف سے جڑا ہوا ہے، اگر آپ کو پسند نہ ہو اور اگر یہ سنگین یا بار بار ہو تو اسے جنسی ہراسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

  3. سوال: اگر مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا جائے تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
    جواب: اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو جنسی لحاظ سے ہراساں کیا گیا ہے تو فوری طور پر اپنے استاد، کونسلر، معاون پرنسپل، پرنسپل یا والدین کو بتائیں۔ یہ افراد آپ کی بات سنیں گے، آپ کو درکار مدد فراہم کریں گے اور ہراسانی کی روک تھام کو یقینی بنائیں گے۔ جب بھی آپ کو اس بات کا یقین ہو کہ آپ کو ہراساں کیا گیا ہے، آپ کے خلاف تفریق برتی گئی ہے یا کسی بھی طریقے سے غیر منصفانہ سلوک کیا گیا ہے تو آپ کو شکایت کرنے کا حق ہے۔ شکایت کے طریقہ کار ضابطہ 1-738 ، "امتیازی سلوک یا ہراسانی کے طلباء کے دعووں کی شکایت کے طریق کار"، میں موجود ہیں۔

  4. سوال: سکول انتظامیہ جنسی ہراسانی کی شکایات کیسے نمٹائے گی؟
    جواب: جنسی ہراسانی کی تمام شکایات PWCS کی نگرانی کے لئے پالیسیوں اور ضوابط کے مطابق نمٹائی جائیں گی۔ جنسی ہراسانی کے ملزم شخص کو شکایت کے بارے میں بتایا جائے گا اور اسے وضاحت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس میں ملوث طلباء کے والدین کو مطلع کیا جائے گا۔ مبینہ ہراسانی کے گواہان کا انٹرویو کیا جائے گا۔ شکایت کی چھان بین اور اسے حل کرتے وقت اس طرح کی سبھی معلومات پر غور کیا جائے گا۔ جتنا ضروری ہو گا PWCS ٹائٹل IX اور سٹوڈنٹ ایکیوٹی آفس سکولوں کی معاونت کرے گا۔

  5. سوال: جنسی ہراسانی میں ملوث افراد کے ساتھ کیا ہو گا؟
    جواب: اگر فرد جنسی ہراسانی میں ملوث پایا جاتا ہے تو نتائج کا تعین ہراسانی کی نوعیت اور مقدمے کی صورت حال کے لحاظ سے کیا جائے گا۔ طلباء کے لیے نتائج "اصلاحی کاروائیوں" کی بنیاد پر ہوں گے جسے "ضابطۂ اخلاق" میں بیان کیا گیا ہے، اور یہ انتباہ یا کونسلنگ سے لے کر معطلی یا اخراج تک ہو سکتے ہیں۔ طلباء کے خلاف تادیبی اقدامات از روئے قانون خفیہ ہیں اور ان کی معلومات میں کسی کو شریک نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر عملہ کا بالغ رکن جنسی ہراسانی میں ملوث ہوتا ہے تو اس فرد کو ہراسانی کی نوعیت کے لحاظ سے اخراج تک سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، کسی بھی قانون کی حکم عدولی ہونے کی صورت میں پولیس سے رابطہ کیا جائے گا۔

  6. سوال: اگر میں جنسی ہراسانی کی شکایت کروں تو میرے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟
    طلباء کو بلا جھجک ہراسانی کی اطلاع دینی چاہیے تاکہ مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ جنسی ہراسانی میں ملوث افراد کو تنبیہ کی جائے گی کہ اگر وہ ان کی اطلاع دینے والے فرد کے خلاف انتقامی کاروائی کی کوشش کرتے ہیں، یا وہ ہراسانی جاری رکھتے ہیں تو انہیں شدید نتائج بھگنا پڑ سکتے ہیں۔ طالبعلم/طالبہ کو انتقامی کاروائی یا ہراسانی کو جاری رکھنے سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، اور نظر رکھی جائے کی طالبعلم/طالبہ ہر قسم کی ممکنہ مدد حاصل کریں۔ تمام طلباء کو سمجھنا چاہیے، تاہم، شکایات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے طالبعلم/طالبہ کے خلاف اصلاحی اقدامات لیے جائیں گے جو ہراسانی کی جھوٹی شکایت درج کرواتا ہے۔

  7. سوال: اگر جنسی ہراسانی کی شکایت کو سکول میں اطمینان بخش طریقے سے نہیں نمٹایا جاتا تو کیا ہو گا؟
    جواب: ہر ایک طالبعلم/طالبہ (الزام لگانے والا یا ملزم) کے والد یا والدہ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو اپیل کر سکتے ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ سکول جنسی ہراسانی کی شکایت کو درست طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔ اپیلیں تحریری طور پر لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو پانچ تعلیمی دنوں کے اندر اندر مل جانی چاہیے۔

  8. سوال: جنسی ہراسانی کو روکنے کے لیے طلباء کیا کر سکتے ہیں؟
    جواب: طلباء درج ذیل طریقے سے جنسی ہراسانی کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں:

    •     دوسروں کو بتا کر کہ ان کا برتاؤ ناقابل قبول ہے؛
    •     ہراساں کرنے والے کو سختی سے رک جانے کا کہہ کر اور ہراسانی کی پہلی ہی علامت پر ایسا کر کے؛
    •     تاریخیں، اوقات، جگہوں، گواہان کے نام وغیرہ کو لکھ کر؛
    •     کسی استاد یا کونسلر کی مدد طلب کر کے؛ اور
    •     پرنسپل یا معاون پرنسپل کو ہراسانی کی اطلاع دے کر۔

جس کسی طالبعلم/طالبہ یا والد یا والدہ کو جنسی ہراسانی سے نمٹنے میں مدد درکار ہو گی انہیں سکول میں پرنسپل، کونسلر، استاد سے بات کرنی چاہیے یا PWCS ٹائٹل XI اور سٹوڈنٹ ایکیوٹی افسر سے scanladm@pwcs.edu پر رابطہ کرنا چاہیے۔ جنسی ہراسانی پر پالیسی اور ضابطہ کی نقل www.pwcs.edu پر یا درخواست کرنے پر دستیاب ہے۔

طلباء کا غیر امتیازی سلوک اور ہراسانی

پرنس ولیم کاؤنٹی پبلک سکولز سکول کے ایک ایسے ماحول کے لیے کار بند ہیں جس میں طالبعلم/طالبہ دوسرے طلباء، ملازمین یا تیسرے فریقوں کے ذریعہ امتیازی سلوک اور ہراسانی سے پاک ہوں۔ سکول انتظامیہ امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی اور امتیازی سلوک کے جن واقعات کی اطلاع دی گئی ہے ان کو بروقت اور فیصلہ کن انداز میں نمٹائے گی۔ ضابطہ 1-738 "طالبعلم/طالبہ کی امتیازی سلوک یا ہراسانی کی شکایت کا طریقہ کار" اور ضابطہ 3-738، "طلباء کی ہراسانی"، جنسی ہراسانی اور دیگر امتیازی ہراسانی کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے اور www.pwcs.edu پر دستیاب ہے یا جنس کی بنیاد پر شکایات کے لیے ٹائٹل XI اور سٹوڈنٹ ایکیوٹی افسر سے scanladm@pwcs.edu پر یا معذوری کی بنیاد پر سپروائزر برائے شکایات سے MallorAV@pwcs.edu سے رابطہ کریں۔ ذیل میں ان ضوابط کی معلومات کا خلاصہ دیا گیا ہے۔ ہراسانی طرز عمل کا ایسا کورس ہے جو پریشان کرتا، دھمکی دیتا، خطرے کا باعث بنتا، متنبع کرتا یا ایک فرد کو اپنی حفاظت کے حوالے میں خوف میں رکھتا ہے۔ ہراسانی ایک نا چاہنے والا، ناپسندیدہ اور بن بلایا طرزعمل ہے شکار ہونے والے کو ذلیل کرتا، دھمکی دیتا اور اس کیلیئے ناپسندیدہ ہے جس کا نتیجے شکار ہونے والے اور تماشائیوں کیلیئے ایک معاندانہ ماحول پیدا کرتا ہے۔

جنس، جنسی شناخت یا جنسی فوقیت کی بنیاد پر ہراسانی
نا پسندیدہ جنسی پیش رفتیں، جنسی فائدے کیلیئے درخواستیں، جنسی محرک پر مبنی جسمانی طرز عمل یا دیگر زبانی یا جسمانی طرز عمل یا جنسی نوعیت کا رابطہ؛ جس میں سیل فون یا انٹرنیٹ شامل ہو سکتا ہے، جب:

  •     ایسا طرز عمل یا رابطہ کی اطاعت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر، تعلیم حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کی اصطلاح یا شرط بنا دیا گیا ہے؛
  •     کسی فرد کی طرف سے طرز عمل اور رابطے کی تعمیل یا نامنظوری کو اس فرد کی تعلیم کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں ایک عنصر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے؛ یا
  •     وہ طرز عمل یا رابطہ حقیقت میں یا نا معقول طریقے سے فرد کی تعلیم میں مداخلت کرتا ہے یا ایک دھمکی آمیز، مخالفانہ یا جارحانہ تعلیمی ماحول پیدا کرتا ہے (جیسا کہ طرز عمل اتنا شدید ہے کہ وہ ایک طالبعلم/طالبہ کی شرکت کرنے کی صلاحیت یا تعلیمی پروگرام سے فائدہ اٹھانے کو محدود کر دیتا ہے)۔

"معاندانہ ماحول" اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جنسی نوعیت کے اعمال اس قدر کافی حد تک سنگین، متواتر یا جاری و ساری ہوں کہ طلباء کے لیے اسکول کے فوائد پہنچانے سے انکار ہو۔ جنس کی بنیاد پر ہراسانی کے برتاؤ کی مثالیں جو اوپر بیان کی گئی تعریف پر پورا اترتی ہیں درج ذیل ہیں:

  •     ناپسندیدہ جنسی جسمانی تعلق؛
  •     ناپسندیدہ جاری یا دہرائے جانے والے جنسی دکھاوے یا تجاویز یا تبصرے؛
  •     جنسی الزام تراشی، ہوس بھری نظروں سے دیکھنا، نام دینا، دھمکیاں دینا، گالم گلوچ، توہین آمیز تبصرے، یا جنسی رسوا کرنے والی وضاحتیں؛
  •     ایک فرد کے جسم کے بارے میں گرافک تبصرے؛
  •     جنسی مذاق، نوٹس، کہانیاں، ڈرائنگز، اشارے، یا تصاویر؛
  •     جنسی افواہیں پھیلانا؛
  •     جنسی طریقے سے کسی فرد کے جسم یا کپڑوں کو چھونا؛
  •     جنسی اشیاء تصاویر، کارٹون، یا پوسٹروں کی نما‏‏ئش کرنا؛
  •     جنسی طور پر دھمکی دینے کے انداز میں مزاحمت کرنا یا حرکت کو روکنا؛
  •     جنسی تشدد؛
  •     تحریری مواد، تصاویر، یا الیکٹرانک تصاویر کی نما‏ئش؛ یا
  •     جنس یا جنسی دقیانوسی خیالات کی بنیاد پر زبانی، غیر زبانی، تحریری، گرافک یا جسمانی طرز عمل کے ناپسندیدہ افعال۔

نسل، رنگ، قومیت، معذوری یا مذہب کی بنیاد پر ہراسانی
یہ جسمانی یا زبانی طرز عمل پر مشتمل نسل، رنگ، قومیت، معذوری یا مذہبی بنیاد پر ہراسانی، جس میں سیل فون یا انٹرنیٹ شامل ہو سکتا ہے، فرد کی نسل، قومیت، معذوری یا مذہب سے تعلق رکھتا ہے جب طرز عمل میں درج ذیل شامل ہو:

  •     دھمکی آمیزانہ، معاندانہ یا جارحانہ تعلیمی ماحول پیدا کرتا ہے؛
  •     حقیقت میں یا غیر ضروری طور پر فرد کی تعلیم میں مداخلت کرتا ہے؛ یا
  •     بصورت دیگر طالبعلم/طالبہ کی شرکت کرنے یا تعلیمی پروگرام سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کو محدود کرنے کی انتہائی سنجیدہ کوشش ہے۔
  •     نسل، رنگ، قومیت، معذوری یا مذہب کی بنیاد پر مشتمل ہراسانی کے طرز عمل کی مثالیں اگر وہ فوری طور پر درج ذیل پر پورا اترتا ہے:

نسل، رنگ، قومیت، معذوری یا مذہب کی بنیاد پر مشتمل ہراسانی کے طرز عمل کی مثالیں اگر وہ فوری طور پر درج ذیل پر پورا اترتا ہے:

  •     نسلی غیر مہذب زبان پر مشتمل گرافٹی؛
  •     نام پکارنا، مذاق یا افواہیں؛
  •     کسی فرد کی نسل، قومیت، معذوری یا مذہب کی وجہ سے اس شخص یا اس کی املاک کے خلاف جارحیت کے جسمانی افعال؛
  •     مخالفانہ افعال جو دوسرے کی نسل، قومیت، مذہب یا معذوری کی بنیاد پر ہیں، یا
  •     تحریری یا گرافک مواد جس کی تشہیر کی جاتی یا پھیلایا جاتا ہے اور جو افراد کو ان کی نسل، قومیت، معذوری یا مذہب کی بنیاد پر دھمکی دیتا ہے۔

شکایت کرنے کا طریقۂ کار
سبھی طلباء یا ان کی طرف سے شکایت کرانے والے والدین کو امتیازی سلوک یا ہراسانی کے خلاف شکایت کرنے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کا حق حاصل ہے۔ کوئی بھی طالبعلم یا والد یا والدہ منتظم سے بات کر کے اور شکایت کا فارم مکمل کر کے شکایت درج کرا سکتے ہیں، ضابطہ 1-738 کا منسلکہ I ہے اور سکول کے دفتر میں بھی دستیاب ہے۔ شکایت کا فارم جتنی جلدی ممکن ہو پرنسپل یا اسسٹنٹ پرنسپل کو جمع کرانا چاہیئے اور OSMAP دفتر کے دفتر میں PWCS کے ٹائٹل IX کے کوآرڈینیٹر کو بھی براہ راست جمع کرایا جا سکتا ہے۔ تمام اساتذہ، کونسلروں اور تعلیمی امداد فراہم کرنے والوں کو طلباء کے شکایت کرانے کے حق سے باخبر ہونا چاہیئے اور ان کی مناسب مدد کرنے کے قابل ہونا چاہیئے اور اصلاحی اقدامات اور انتقامی کاروائی کے خلاف تحفظ کی یقین دہانی کرانی چاہیئے۔ سکول انتظامیہ ضابطہ 1-738، امتیازی سلوک یا ہراسانی کی طالبعلم/طالبہ کی شکایت درج کرانے کا طریقہ کار کے تحت ہراسانی کی شکایات کا جواب دیں گے۔ پرنسپل یا نامزد شخص فوری اور غیر جانبدارانہ طریقے سے شکایات کی چھان بین کریں گے، یا کچھ صورتوں میں PWCS دفتر برائے رسک منیجمنٹ اور سیکیورٹی سروسز بذات خود ملزم کے ساتھ ساتھ گواہان کا انٹرویو کریں گے اور تمام متعلقہ معلومات اور ثبوت پر غور کریں گے۔ ملزم اور دونوں فریقوں کے والدین کو شکایت کی اطلاع دی جائے گی؛ بصورت دیگر، ممکنہ حد تک رازداری برقرار رکھی جائے گی۔ پرنسپل یا قائم مقام شکایت کنندہ کو جہاں مناسب ہو، وہاں مشاورتی خدمات یا مدد کے دوسرے ذرائع کی اطلاع دیں گے۔ وفاقی قانون کی ممکنہ حد کے اندر، شکایت کنندہ اور ملزم کو کسی قسم کی تحقیقات کے نتائج کے نوٹس، دوبارہ نہ ہونے سے بچاؤ کے لیے کیے گئے اقدامات اور انتقامی کاروائی سے تحفظ کے نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔

اصلاحی اقدامات
جس پر بھی ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہو، اسے مخصوص شکایت سے آگاہ کیا جائے گا اور دفاع میں وضاحت فراہم کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اگر ایک طالبعلم/طالبہ جنسی یا دیگر امتیازی ہراسانی میں ملوث ہوتا/ہوتی ہے تو قائم کردہ نظم و ضبط کے طریقہ کار کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایسی تادیبی کاروائی تنبیہ اور مشاورت سے لے کر معطلی یا اخراج تک ہو سکتی ہے جس کا انحصار واقعے کی سنجیدگی اور دیگر طلباء کو مستقبل میں مزید امتیازی سلوک یا ہراسانی کے طرز عمل سے بچانے کی ضرورت پر منحصر ہے۔ اگر کوئی ملازم ہراسانی میں ملوث ہوا ہے تو جرم کی سنگینی کے لحاظ سے، مناسب نظم و ضبط کی کاروائی کی جائے گی جس میں برطرفی تک شامل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، طلباء، ملازمین اور تیسرے فریق کی اطلاع مناسب قانونی کاروائی کے لیے حکام کو بھی دی جا سکتی ہے۔ نوٹ: جان بوجھ کر ہراس کی جھوٹی شکایت درج کروانے والا طالبعلم بھی اصلاحی کاروائی کا مستوجب ہو سکتا ہے۔

انتقامی کاروائی کے خلاف تحفظ
طلباء ہراسانی کے واقعات کی رپورٹ ملزم سے کسی انتقامی کاروائی کے خوف کے بغیر آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں۔ انتقام کی کسی بھی کوشش کا موزوں اصلاحی اقدامات جو طلباء کے اخراج تک جا سکتے ہیں، کے ذریعے تدارک کیا جائے گا۔ اسکول ڈویژن کے جو ملازمین ہراسانی یا امتیازی سلوک کے الزام کی نتیجے میں انتقامی کاروائی کی کوشش کریں گے انہیں بھی اپنی نوکری سے برخاستگی سے لے کر تادیبی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اپیل کا طریقۂ کار
اگر شکایت کے حل میں کسی قسم کی نا اتفاقی ہے تو تعین کی رسید کے 5 دن کے اندر اندر پرنسپل کے فیصلے پر اپیل کی جا سکتی ہے۔ کوئی طالبعلم ہراس کے معاملے میں اسکول انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ اپیلیں والد یا والدہ یا رہائی یافتہ طالبعلم/طالبہ کے ذریعہ تحریری طور پر بیان کی جائیں اور ضابطہ 1- 738، "ہراسانی کے طلباء کے دعووں کی شکایت کے طریق کار" میں موجود طریق کار کے مطابق مناسب لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو بھیجی جائیں۔

احتیاطی تدابیر
سکول ضابطہ 3-738 "طلباء کی ہراسانی" میں بیان کے مطابق تمام ہراسانی کے افعال کو روکنے کی کاروائی کرے گا۔ طلباء ہراسانی کو روکنے یا ختم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں اگر وہ:

  •     ہراسانی کرنے والے کو واضح انداز میں بتائیں کہ ایسے اقدامات قابل قبول نہیں ہیں؛
  •     ہراسانی کرنے والے کو سخت الفاظ میں رکنے کو کہیں؛
  •     ہراسانی کے اصل واقعے سے متعلق تحریری نوٹس، تاریخیں، اوقات، جگہیں، گواہان کے نام اور دیگر معلومات اپنے پاس رکھیں؛
  •     ہراسانی کے نوٹس، خطوط اور دیگر ثبوت پاس رکھیں؛ اور
  •     کونسلر یا منتظم سے بات کریں اور اگر مناسب ہو تو شکایت درج کرائیں۔

مدد حاصل کرنے کے ذرائع
جس کسی طالبعلم/طالبہ یا والد یا والدہ کو جنسی یا امتیازی ہراسانی کے ضابطے کو سمجھنے یا ہراسانی کے بارے میں تشویشات کو نمٹانے کا طریقہ جاننے میں مدد کی ضرورت ہو انہیں سکول میں پرنسپل، اسسٹنٹ پرنسپل یا کونسلر سے بات کرنی چاہیے یا دفتر برائے سٹوڈنٹس سروسز کو 7257-791-703 پر فون کرنا چاہیے۔

 

امتیازی سلوک یا ہراسانی کی شکایت

ضابطہ 1-738، منسلکہ I, پرنٹ شدہ PDF ورژن 

امتیازی سلوک یا ہراسانی کی شکایات کے لیے اپیل فارم

ضابطہ 1-738، منسلکہ II، پرنٹ شدہ PDF ورژن

غنڈہ گردی

طلباء کی غنڈہ گردی ممنوع ہے

ہر سکول کا ایسا ماحول دینے کیلیئے پرعزم ہے جہاں طلباء غنڈہ گردی سے آزاد ہوں۔ طلباء کو سکول انتظامیہ کو واقعات کی اطلاع دینے کی تاکید کی جاتی ہے۔ سکول منتظمین طلباء کی طرف سے غنڈہ گردی کی اطلاع کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مناسب اقدامات کریں گے۔ طالبعلم غنڈہ گردی کے واقعات کی اطلاع کے لیے فارم استعمال کر سکتے ہیں۔ غنڈہ گردی کی شکایت کا فارم کونسلنگ ڈیپارٹمنٹ یا مرکزی دفتر میں بھی موجود ہے۔

      سوال: غنڈہ گردی کیا ہے؟

"غنڈہ گردی" سے مراد کوئی بھی جارحانہ اور بے جا سلوک، جس کا مقصد نشانہ بننے والے کو نقصان پہنچانا، خوف زدہ کرنا یا ذلیل کرنا ہے؛ جس میں جارح فرد یا افراد اور اس کے ہدف کے درمیان حقیقی یا بظاہر طاقت کا عدم توازن شامل ہوتا ہے؛ اور اس کو بار بار دہرایا جاتا ہے یا جس کے نتیجے میں جذباتی چوٹ پہنچتی ہے۔ "غنڈہ گردی" میں سائبر غنڈہ گردی شامل ہے۔ "غنڈہ گردی" میں معمولی چھیڑ خانی، اودھم مچانا، بحث کرنا یا دوستوں کا جھگڑا شامل نہیں ہے۔
     
      سوال: کن رویوں کو غنڈہ گردی والے رویے سمجھا جاتا ہے؟

جواب: غنڈہ گردی والے رویے کی کچھ مثالوں میں جان بوجھ کر لوگوں کو شامل نہ کرنا، طنز، دھمکیاں، اشارے، توہین، گپ شپ، تذلیل، چھیڑنا، سائبر غنڈہ گردی، گرانا، مارنا، املاک چوری کرنا یا خراب کرنا، گالی دینا اور دوسروں کی ظاہری ہئیت، تعلیمی یا کھیل میں قابلیت یا کسی بھی دوسری وجہ سے ان کا مذاق اڑانا شامل ہے۔ غنڈہ گردی کئی مختلف طریقوں سے جمائی جا سکتی ہے۔ یہ کبھی کبھار دوسرے لوگوں کو محض الگ تھلگ کر دیئے جانے کا احساس دلانا ہوتا ہے۔ دوسرے وقت یہ کسی کو مارنے، چھیڑنے یا چوٹ پہنچانے کی دھمکی ہوتی ہے۔ چوری کرنا یا تنگ کرنا کسی کے لنچ یا کتابوں کو چوری کرنا یا تنگ کرنا بھی دھونس ہے اور اسی طرح عینک یا مختلف قسم کے کپڑے پہننے کی وجہ سے یا کھیلوں میں قابلیت نہ رکھنے کی وجہ سے کسی کا مذاق اڑانا بھی غنڈہ گردی ہے۔ لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کا استعمال کرنا غنڈہ گردی کی ایک اور شکل ہے۔ دوسرے نقصان دہ رویے بھی غنڈہ گردی ہو سکتے ہیں۔

      سوال: میں غنڈہ گردی کی رپورٹ کس طرح کر سکتا/سکتی ہوں؟

جواب: کوئی بھی طالبعلم/طالبہ کسی منتظم یا عملہ کے رکن سے بات کر کے غنڈہ گردی کا فارم مکمل کر کے غنڈہ گردی کی اطلاع دے سکتا ہے۔ عملہ کے ارکان آپ کی شکایت کی اطلاع اسکول انتظامیہ کو دینے کے پابند ہیں۔ آپ کے والد یا والدہ (والدین) کو بھی ان معلومات کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

      سوال: غنڈہ گردی کا عمل جاری رہنے کی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے؟

جواب: فوری طور پر اسکول کے منتظم یا عملہ کے ممبر کو اس کی اطلاع دیں۔ غنڈہ گردی جاری رہنے کے بارے میں اپنے والد یا والدہ (والدین) کو بھی بتانا ضروری ہے۔ اگر غنڈہ گردی کا ملزم کوئی طالبعلم غنڈہ گردی کرنے والے اپنے رویے کی اطلاع دینے والے شخص سے بدلہ لینے کی کوشش کرے، تو منتظمین تادیبی کاروائی کریں گے جس میں اخراج تک بھی شامل ہے۔

      سوال: اگر مجھ سے غنڈہ گردی کی جاتی ہے تو کیا میں فوری کاروائی کر سکتا ہوں؟

 جواب: جی ہاں۔ جی ہاں، ان اقدامات میں یہ ہیں: غنڈہ گردی کرنے والے کو سخت الفاظ میں رکنے کو کہیں؛ غنڈہ گردی کے اصل واقعے سے متعلق تحریری نوٹس، تاریخیں، اوقات، جگہیں، گواہان کے نام اور دیگر معلومات اپنے پاس رکھیں؛ اور فوری طور پر واقعہ کے بارے میں عملہ کے کسی ممبر، مشیر، منتظم یا والد یا والدہ سے بات کریں۔

غنڈہ گردی کی شکایت

پرنس ولیئم کاؤنٹی پبلک سکولز کے "ضابطہ اخلاق" کے مطابق، کوئی بھی جارحانہ اور بے جا سلوک، جس کا مقصد نشانہ بننے والے کو نقصان پہنچانا، خوف زدہ کرنا یا ذلیل کرنا ہے؛ جس میں جارح فرد یا افراد اور اس کے ہدف کے درمیان حقیقی یا بظاہر طاقت کا عدم توازن شامل ہوتا ہے؛ اور اس کو بار بار دہرایا جاتا ہے یا جس کے نتیجے میں جذباتی چوٹ پہنچتی ہے۔ غنڈہ گردی میں انٹرنیٹ کے ذریعے غنڈہ گردی بھی شامل ہے، جس میں الیکٹرانک پیغامات اور/یا تصاویر کی منتقلی، وصولی، یا اظہار شامل ہے۔” غنڈہ گردی میں معمولی چھیڑ خانی، اودھم مچانا، بحث کرنا یا دوستوں کا جھگڑا شامل نہیں ہے۔ سکول کے پرنسپل اور سٹاف "ضابطہ اخلاق" پر عمل کروانے کیلیئے پرعزم ہیں اور غنڈہ گردی کی شکایات کا فوری طور پر اور مناسب طریقے سے جواب دیتے ہیں۔ کوئی بھی طالبعلم/طالبہ ایک منتظم سے بات کر کے اور/یا اس فارم کو مکمل کر کے اور اسے واپس پرنسپل یا اسسٹنٹ پرنسپل کو دے کر شکایت درج کروا سکتا/سکتی ہے۔ سٹاف کا کوئی رکن بھی طالبعلم/طالبہ یا والد یا والدہ جو غنڈہ گردی کی رپورٹ کریں، کے کہنے پر یہ فارم مکمل کر سکتا/سکتی ہے۔

 

براہ مہربانی پرنٹ کریں

 

شکایت کرنے والے کا نام:

سکول:

اس فرد (افراد) کے نام جن پر غنڈہ گردی کا الزام لگایا گیا ہے:

 

شکایت کی تفصیل (اگر ممکن ہے تو مخصوص تاریخیں، اوقات، گواہان کے نام وغیرہ لکھیں):

 


 

 

 

 

شکایت کرنے والے کے دستخط:

تاریخ:

نوٹ: ﺗﻣﺎﻡ ﺷﮑﺎﻳﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺩﺭﺍﺝ ﮐﮯ ﺑﻌﺩ ﭼﻬﺎﻥ ﺑﻳﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ قصور وار کے ساتھ ساتھ اس میں شامل طلباء کے والد یا والدہ (والدین) کو بھی شکایات سے مطلع کیا جائے گا، گواہان کے انٹرویو کیے جائیں گے اور تمام معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا ماسوائے کہ تحقیقات کے حصے کے طور پر استعمال کیا جائے۔

طلباء اور والدین کو قانونی نوٹس

"ضابطۂ اخلاق" کا یہ حصہ وفاقی اور/یا ریاستی قانون کے تحت طالبعلم/طالبہ سے متعلق قانونی نوٹسز پر مشتمل ہے۔ آپ ان نوٹسز کو پڑھنے کے ذمہ دار ہیں اور طالبعلم/طالبہ کے ہنگامی معلوماتی کارڈ پر آپ کا دستخط اس امر کا اعتراف ہے کہ آپ نے ان نوٹسوں کو پڑھ اور سمجھ لیا ہے۔

ورجینیا کوڈ 279.3-22.1  کے تحت والدین کی ذمہ داری اور شمولیت کے تقاضے کا اطلاع نامہ

ورجینیا کوڈ § 279.3-22.1 کی دفعات والدین کی ذمہ داری اور شمولیت پر بات کرتی ہیں جس کا مقصد طالبعلم/طالبہ کے مناسب طرز عمل کو فروغ دینا اور سکول میں حاضری کو یقینی بنانا ہے۔ اس قانون میں مذکور ہے کہ "سرکاری سکولوں میں داخل ہر طالب علم کے والد یا والدہ پر طالبعلم کے برتاؤ اور لازمی سکول کی حاضری کے نفاذ میں سکول کی مدد کرنا فرض ہے تاکہ خلل اور افراد یا املاک کو خطرے سے پاک اور انفرادی حقوق میں معاون ماحول میں تعلیم کا اہتمام کیا جا سکے"۔ لہذا، والدین کو محفوظ اور منظم تعلیمی ماحول برقرار رکھنے کے لیے سکول منتظمین کی شراکت میں کام کرنا ضروری ہے۔ ہمارے بیشتر والدین ہمارے سکولوں میں شامل ہیں اور ان میں معاونت کرتے ہیں اور تعلیم کے فروغ کے لیے ضروری ماحول کی تخلیق میں مدد کر رہے ہیں۔ نتیجتا، سکول ڈویژن اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اسے اس وقت تک اس نفاذ قانون کے التزامات کے مطابق کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی جب تک والدین ذیل میں بیان کردہ طریقے کے مطابق جان بوجھ اور نامناسب طریقے سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کر پائیں۔ اس کے برخلاف، یہ قانون سکول ڈویژن کو ایک محفوظ تعلیمی ماحول کے رکھ رکھاؤ میں سبھی والدین کو شامل کرنے کے لیے ایک اضافی وسیلہ فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کے تقاضوں کا خلاصہ ذیل میں ہے:

 

  •     والدین لازمی طور پر ایک بیان پر دستخط کر کے اسے واپس بھیجیں جس میں سکول بورڈ کے "ضابطۂ اخلاق" کی وصولی کا اعتراف ہو اور "ضابطۂ اخلاق" میں بیان کردہ طالب علم کے برتاؤ کے معیارات کو نافذ کرنے میں سکول کی مدد کرنے کی اپنی ذمہ داری کو تسلیم کریں اور سکول کی حاضری کو یقینی بنائیں۔ بیان پر دستخط کر کے، جو طالبعلم/طالبہ کے ہنگامی معلوماتی کارڈ کی پشت پر درج ہے، والدین اور طلباء اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے "ضابطۂ اخلاق" کے مندرجات کو پڑھ اور سمجھ لیا ہے اور یہ کہ والدین کی طرف سے قانون کے تقاضے پورا نہ کر پانے کی صورت میں والدین اور طلباء کے خلاف عدالتی کاروائی کی جا سکتی ہے۔ بیان پر دستخط کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ والدین کے حقوق ساقط ہو گئے ہیں بلکہ، والدین کے حقوق ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا دولت مشترکہ ورجینیا کے آئین یا قوانین کے تحت محفوظ ہیں۔ والد یا والدہ کو سکول یا سکول ڈویژن کی پالیسیوں یا فیصلوں سے اختلاف کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ طلباء/والدین ورجینیا کے ضابطہ § 06-04.277-22.1  کے تحت معطلی یا اخراج پر اپیل کرنے کا بھی حق رکھتے ہیں۔
  •     قانون پرنسپل کو یہ درخواست کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ طالبعلم/طالبہ کے والد یا والدہ (والدین کے پاس ایسے طالب علم کی قانونی اور جسمانی تحویل ہے) پرنسپل یا ان کے نامزد سے ملاقات کریں تاکہ "ضابطۂ اخلاق" کا اور طلباء کو نظم و نسق سکھانے اور ترتیب بحال رکھنے میں سکول کے ساتھ شرکت کرنے کی والد یا والدہ یا دونوں کی ذمہ داری کا جائزہ لیا جائے، تاکہ سکول کی لازمی حاضری کے قانون کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے اور طالب علم کے رویے، سکول میں حاضری اور تعلیمی پیش رفت میں بہتری لانے پر گفتگو کی جائے۔
  •     قانون پرنسپل کو اس صورت میں جب طالبعلم/طالبہ "ضابطۂ اخلاق" یا سکول بورڈ کی دیگر پالیسی یا سکول میں لازمی حاضری کے قانون کی خلاف ورزی کرے والدین کو اطلاع دینے کی اجازت دیتا ہے، جب اس طرح کی خلاف ورزی کا نتیجہ معطلی یا عدالت میں عرضی دائر کرنے کی صورت میں برآمد ہو سکے، چاہے سکول انتظامیہ نے اس طرح کی کاروائی عائد یا شروع کی ہو یا نہ کی ہو۔ نوٹس میں ان امور کا ذکر ہو گا (i) خلاف ورزی کی تاریخ اور اس کی جزئیات؛ (ii) طالبعلم کے رویے اور/یا سکول میں لازمی حاضری کو بہتر بنانے میں سکول کا تعاون کرنے کے لیے اقدام (اقدامات) کرنے کی والدین کی جوابدہی؛ (iii) کہ، اگر طالبعلم کو معطل کر دیا جاتا ہے تو سکول کے عہدیداران سے ملنے کے لیے والدین کو طالبعلم کے ساتھ آنے کو کہا جا سکتا ہے؛ اور ( iv ) طالبعلم کو نگرانی میں رہنے والا بچہ قرار دینے کے لیے مخصوص حالات کے تحت نابالغ اور گھریلو تعلقات کی عدالت میں ایک عرضی دائر کی جا سکتی ہے۔
  •     معطل کیے گئے طلبا کو باقاعدہ سکول پروگرام میں اس وقت تک دوبارہ داخلہ نہیں دیا جا سکتا ہے جب تک کہ طالبعلم/طالبہ اور والد یا والدہ سکول کے عہدیداروں سے ملاقات کر کے طالبعلم/طالبہ کے سلوک کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال نہ کر لیں۔ تاہم، طالبعلم/طالبہ کے لیے مناسب ہونے کی صورت میں، پرنسپل یا قائم مقام کو والدین کی کانفرنس کے بغیر طالبعلم/طالبہ کو دوبارہ داخلہ دینے کی اجازت ہے۔
  •     اگر والدین یہ تقاضے یا قانون کے تحت دوسرے تقاضے پورا نہیں کر پاتے ہیں تو سکول بورڈ نابالغ اور گھریلو تعلقات کی عدالت میں عرضی دائر کر کے والدین کے خلاف طالبعلم/طالبہ کے رویے اور/یا سکول حاضری بہتر بنانے کی کوششوں میں شرکت کرنے سے جان بوجھ کر اور نامناسب انکار کے لیے کاروائی کر سکتا ہے۔ عدالت درج ذیل کاروائیاں کر سکتی ہے:
    •     والد یا والدہ کو سکول عہدیداران سے ملاقات کرنے کا حکم دینا؛ اور
    •     طالبعلم/طالبہ اور/یا والدین کو طالبعلم/طالبہ کے رویے اور سکول حاضری کو بہتر بنانے کی تدابیر یا پروگراموں میں شرکت کرنے کا حکم دینا، بشمول حسب حال پرورش، مشاورت یا تدریس کے پروگرام میں شرکت یا دیگر ایسی پابندیوں اور شرائط کا مستوجب قرار دینا جسے عدالت مناسب سمجھے اور/یا والدین پر 500 ڈالر تک کا جرمانہ عائد کرنا۔

ورجینیا کی لازمی حاضری کے قوانین کے بارے میں مزید معلومات کے خواہاں والدین کو ضابطہ 1-724، "حاضری اور عذر" اور ورجینیا کوڈ کے سیکشن  254-22.1 et. seq. کا حوالہ دیا جاتا ہے جو آن لائن http://leg1.state.va.us/ پر دستیاب ہیں۔

طالبعلم/طالبہ کے حقوق

آئین، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قوانین اور دولت مشترکہ ورجینیا طلباء کو بہت سے قانونی حقوق اور آزادیاں دیتے ہیں۔ سکول بورڈ کی پالیسیاں اور ضوابط بھی طلباء کو ان کی عمر اور پختگی کی سطح کے مطابق بہت سارے مراعات فراہم کرتے ہیں۔ طلباء اس وقت تک ان حقوق اور مراعات کا استعمال کر سکتے ہیں جب تک کہ وہ دوسروں کے حقوق یا سکولوں کو سیکھنے کا محفوظ ماحول فراہم کرنے کی اہلیت میں مداخلت نہیں کرتے ہیں۔

PWCS کے طلباء کے درج ذیل حقوق ہیں:

  •     توقع کریں کہ سکولوں، دفاتر اور کمرۂ جماعت خیال رکھنے والے، حفاظت کرنے والے ہیں اور مثبت تعلقات میں اضافہ کرتے ہیں؛
  •     توقع کرتے ہیں کہ نصاب اور تدریس سخت تعلیمی تجربات کے مواقع کو فروغ دیتے ہیں؛
  •     ایسے سکولوں میں شرکت کریں جو خوش آئند، محفوظ ہیں اور سٹاف اور طلباء کے لیے تدریس کے مثبت ماحول کے لیے موزوں ہیں؛
  •     ان کی انفرادی سطح کی تفہیم اور صلاحیتوں کے حوالے سے مساوی اور قیمتی تعلیمی تجربات کی توقع کری؛
  •     تقریر، اسمبلی، درخواست، اور دوسرے قانونی ذرائع کے ذریعہ آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کریں، یہاں تک کہ وہ تدریسی عمل میں مداخلت نہ ہو؛
  •     تادیبی کاروائی کی پیروی جب معطلی یا اخراج کے فیصلے زیر التوا ہو؛
  •     جب درخواست کی جائے تو متوقع ضروری دستاویزات کو ان کی اپنی زبان میں ترجمے کر کے یا مترجم کی سہولت دی جائے؛ اور
  •     بالغان اور دیگر طلباء سے شائستگی، عزت، اور انصاف پسندی کی توقع کرنا جس میں ان کے ثقافتی اعتقادات اور اختلافات بھی شامل ہیں۔